دوران حراست یوٹیوبر ڈکی بھائی کا سینڈوچ کون کھا گیا؟ نیا معمہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
معروف یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی نے دورانِ حراست پیش آنے والے مبینہ واقعات اور این سی سی آئی (قومی سائبر کرائم ادارہ) کے بعض اہلکاروں کے رویے سے متعلق نئے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ڈکی بھائی جو غیرقانونی جوا ایپس کے فروغ اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہا ہوئے ہیں انہوں نے یاسر شامی کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ریمانڈ کے دوران ان کا گھر سے آیا ہوا کھانا انہیں فراہم ہی نہیں کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی دوران حراست ویڈیو جاری، یوٹیوبر سے کس طرح کے سوال پوچھے جاتے رہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے انہیں ہلکی غذا استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے باعث وہ گھر والوں سے روزانہ سب وے سینڈوچ منگواتے تھے۔ تاہم ایک روز ان کے پاس صبح، دوپہر اور شام تینوں وقت کھانا نہ پہنچا۔ جب انہوں نے اپنے بھائی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ گھر سے باقاعدگی سے سینڈوچ بھیجے جا رہے تھے۔
ڈکی بھائی کے مطابق میں نے بھائی کو فون کر کے کہا سینڈوچ بھجوا دو میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوا تو اس نے کہا کہ میں نے دو سینڈوچ صبح بھجوائے ہیں اور دو شام کو بھجوائے ہیں۔ یوٹیوبر نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ وہ کھانا سرفراز چوہدری کھاتے تھے یا کوئی اور لیکن وہ مجھ تک نہیں پہنچتا تھا۔ جب میں نے یہ بات ڈیپارٹمنٹ میں اٹھائی تو پھر کھانا ملنا شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اپنے 7 سالہ بیٹے سے مجھے گالیاں دلوائیں‘، ڈکی بھائی نے تفتیشی افسر سرفراز چوہدری سے متعلق مزید کیا بتایا؟
یوٹیوبر نے مزید بتایا کہ دورانِ حراست ان کی ملاقات سینئر صحافی ارشاد بھٹی اور ڈاکٹر عمر عادل سے بھی ہوئی۔ ان کے مطابق ارشاد بھٹی میرے بارے میں پوچھ گچھ کی تو مجھے سرفراز چوہدری کے کمرے میں لایا گیا، میری ہتھکڑی کھلوائی اور بہتر تاثر دینے کی کوشش کی اور پوچھا بھی کہ کیا دوران حراست تشدد ہوا مگر میں نے اس وقت انکار کردیا تھا۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے جوا ایپس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ لاہور ہائی کورٹ نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی جس کے بعد وہ 26 نومبر کو رہا ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این سی سی آئی ڈکی بھائی ڈکی بھائی انٹرویو ڈکی بھائی کھانا ڈکی بھائی ویڈیو وائرل سرفراز چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این سی سی ا ئی ڈکی بھائی ڈکی بھائی ویڈیو وائرل سرفراز چوہدری سرفراز چوہدری ڈکی بھائی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔