پاکستان کے سب سے بڑے یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے دوران حراست کچھ شخصیات سے ملاقاتوں کا انکشاف کرتے ہوئے اُن کے نام بتا دیے۔

ڈکی بھائی نے اپنے تفصیلی وی لاگ کے بعد اب ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے پلیٹ فارم پر میزبان یاسر شامی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے۔

یوٹیوبر نے اعتراف کیا کہ اُن کی حراست کے دوران ارشاد بھٹی اور ڈاکٹر عمر عادل سے ملاقات ہوئی تھی۔

سعد الرحمان نے بتایا کہ ارشاد بھٹی نے ایک بار جیل کا دورہ کیا اور میرے بارے میں پوچھ گچھ کی، اُس دوران مجھے ہتھکڑیاں لگا کر سامنے لایا گیا اور مجھے جیل افسر نے کہا تھا کہ یہاں کوئی تمھارا دوست نہیں اور تمھارے مسائل کو صرف سرفراز چوہدری حل کرسکتے ہیں۔

ڈکی بھائی کے مطابق مجھے حوالات سے نکال کر سرفراز چوہدری کے کمرے میں لایا گیا تو انہوں نے فورا میری ہتھکڑی کھلوائی اور ارشاد بھٹی کے سامنے اچھا تاثر دینے کا پیش کیا اور پھر مجھ سے پوچھا بھی کہ کیا دوران حراست تشدد ہوا مگر میں نے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایک یوٹیوبر کی موجودگی میں ڈکی بھائی سے دوران حراست پوچھ گچھ کی ویڈیو سامنے آگئی

یوٹیوبر کے مطابق اس کے علاوہ ڈاکٹر عمر عادل سے بھی دوران حراست ملاقات ہوئی اور وہ خود قید کاٹ رہے تھے۔ انہوں نے خود مجھ پر ہونے والا تشدد دیکھا اور وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔

سعد الرحمان کے مطابق قیدیوں کی شرٹ اتروا کر اُن کی تلاشی لی جاتی تھی اور عمر عادل نے بھی اس کا سامنا کیا جبکہ انہوں نے احتجاج کیا تھا کہ میرا تعلق آرائیں برادری سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈکی بھائی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا