پاکستان کو لوٹنے والوں کیلیے لندن اور دبئی سیف زونز نہیں رہیں گے، چیئرمین نیب
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
چئیرمین نیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کو لوٹنے والوں کے لیے لندن اور دوبئی سیف زونز نہیں رہیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی کہتے ہیں پہلے نیب سیاسی انتقام میں لگا ہوا تھا لیکن اب اچھاکام کرنیوالوں کو نیب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے نیب راولپنڈی کے زیراہتمام آگاہی واک کا اہتمام کیاگیا جس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، اراکین قومی اسمبلی، چیئرمین نیب ،اسکولوں کے بچوں سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی وقاراحمد چوہان نے کہا موجودہ نیب نے 20،20سال پرانے کیسز حل کیے، 7.
ان کا کہنا تھا کہ بنیان المرصوص بھی جیتی وہ بھی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے جیتی، اب کرپشن کیخلاف جنگ بھی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے جیتیں گے۔
چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ر نذیر احمد نے کہا ہم نے پیارے وطن سے کرپشن کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہے2025میں نیب نے 6140ارب روپے کی ریکوریز کی ہیں ،اڑھائی سالوں میں 11400ارب کی رقم ریکور کروائی ہے،ہم آٹو میشن کے تحت تفتیشی طریقہ کار کواپنا رہے ہیں،ہم پاکستان کے باہر بھی جارہے ہیں دیگر پارٹنرز کے ساتھ مل کر دیگر ممالک سے بھی لوٹی ہوئی رقوم واپس لائیں گے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لوٹنے والوں کے لیے لندن اور دوبئی سیف ہیونز نہیں رہیں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا موجودہ چئیرمین نیب صاحب چالیس ارب ڈالر جو آپ نے اکٹھے کیے پہلے کیوں نہیں کیے،پہلے نیب کیا کررہی تھی ،پہلے نیب سیاسی انتقام میں لگی ہوئی تھی،نیب سیاستدانوں، کاروباری لوگوں کے پیچھے لگی ہوئی تھی،موجودہ چئیرمین نیب نے سب سے پہلے نیب کو ٹھیک کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے نیب میں موجود لوگوں نے اسے اپنی ریاست بنایا ہوا تھا،ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے ہم نیب کے فنکشن میں آئیں گے لیکن نیب نے اپنا اعتماد بحال کرایا ہے،کرپشن ایک ناسور ہے جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے،کاروباری آدمی، سرکاری افسران کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،درخواست دیں، اگر آپ کو نیب سے ردعمل نہیں ملا تو میں بھی اتنا ہی ذمہ دار ہوں گا جتنا چیئرمین نیب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی پہلے نیب نے کہا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔