پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کل ہونگے، افغان طالبان ہمارے خدشات دور کریں، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کل ہوں گے جس میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی پر بات ہوگی۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ افغان طالبان پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کے خدشات دور کریں اور وہ عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کریں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، دوحہ مذاکرات کے تحت افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، افغانستان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتا ہے، ہم فلسطین کاز کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے خلاف مشاورتی رائے دی، جس میں اسرائیل کو امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرنے کا پابند کیا، جنوری 2024 سے اب تک یہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا چوتھا فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی اور متعدد مسلم ممالک نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ فلسطین کے حصوں کو ضم کرنے کے غیر قانونی نئے اسرائیلی قوانین کی شدید مذمت کی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پولینڈ کے وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئیں، دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے رواں ہفتے تین اہم رابطے ہوئے، اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جبکہ سعودی اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ ہوا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق میکنزم کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔