پاک افغان کشیدہ صورتحال اور قبائلی اضلاع میں دہشتگردی، کیا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی کو تبدیل کیا جارہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
حالیہ افغانستان سے کشیدگی اور قبائلی علاقوں میں بڑھتی دہشتگردی کے باعث وفاق نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی وطن پارٹی کے چیئرمین، سابق وزیراعلیٰ اور پختون رہنما آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات ممکن نہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
مذکورہ ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن و امان، افغانستان کی صورتحال اور افغان مہاجرین کی واپسی پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق صدر زرداری اپنی ہی جماعت کے سابق وزیراعلیٰ کو، جنہوں نے بعد میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی جماعت بنائی، گورنر خیبرپختونخوا مقرر کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کو کیوں تبدیل کیا جا رہا ہے؟ذرائع کے مطابق 2024 کے عام انتخابات کے بعد گورنر خیبر پختونخوا کا عہدہ پیپلز پارٹی کو دیا گیا تھا، جس کے تحت جمعیت علما اسلام کے غلام علی کو ہٹا کر پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی کو گورنر مقرر کیا گیا۔
تاہم ان کے دور میں صوبے میں سیاسی تعلقات انتہائی کشیدہ رہے، گورنر اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا تعلق ایک ہی ضلع سے ہونے کے باوجود گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے درمیان کوئی مؤثر ورکنگ ریلیشن قائم نہ ہو سکا۔
باخبر ذرائع کے مطابق کچھ عرصے سے پاک افغان تعلقات کشیدہ رہے، جبکہ حالیہ کشیدگی اور سرحد پر حملوں کے بعد اگرچہ جنگ بندی تو ہو گئی، مگر تعلقات بدستور خراب ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا ان تعلقات کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: سانحہ دریائے سوات، گورنر خیبرپختونخوا نے علی امین گنڈاپور کو ذمہ دار قرار دے دیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور افغانستان کی جغرافیائی قربت، زبان، ثقافت اور روایات ایک ہونے کے باعث دونوں کے درمیان ہمیشہ رابطہ قائم رہا ہے اور صوبے کا اس میں بڑا کردار ہو سکتا تھا جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے، لیکن حالیہ صورتحال میں گورنر کا کوئی فعال کردار نظر نہیں آیا۔
موجودہ گورنر کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہونے کے باعث افغانستان میں ان کا اثرورسوخ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ موجودہ حالات میں وفاق کو صوبے میں ایسے نمائندے کی ضرورت ہے جس کا افغانستان اور خصوصاً افغان قبائل میں اثرورسوخ ہو اور جو ان سے مؤثر انداز میں بات چیت کر سکے۔
مزید پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا جامعات کے اختیارات سے بھی محروم، اب ان کے پاس کیا کچھ بچا ہے؟
مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت کئی نام زیر غور ہیں، تاہم آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے حالیہ دنوں میں اہم ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں اس عہدے کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے، وہ صوبے میں سیاسی معاملات کو بہتر بنانے، خصوصاً افغانستان سے رابطہ قائم کرنے اور کشیدہ حالات کو سنبھالنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آفتاب شیرپاؤ بھی ماضی کے اختلافات کے باوجود گورنر بننے پر آمادہ ہو گئے ہیں، تاہم ابھی تک وفاقی حکومت یا قومی وطن پارٹی کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کون ہیں؟آفتاب احمد خان شیرپاؤ سینیئر سیاستدان اور سابق فوجی افسر ہیں، جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے گاؤں شیرپاؤ سے ہے، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں میں سے ایک حیات محمد خان شیرپاؤ کے بھائی ہیں۔
حیات شیرپاؤ ایک معروف سیاستدان تھے جو 1975 میں صوبے کے گورنر تھے جب ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔
بھائی کی شہادت کے بعد آفتاب شیرپاؤ نے عملی سیاست میں قدم رکھا، وہ کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے اور مشرف دور میں وفاقی وزیرِداخلہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاق گورنر راج لگانا چاہتا ہے تو لگائے، میں کیوں روکوں گا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کے نام سے ایک الگ جماعت قائم کی، جو بعد میں قومی وطن پارٹی یعنی کیو ڈبلیو پی کہلائی۔
ان کی سیاست کا محور خیبر پختونخوا اور خصوصاً پشتون علاقوں کے مسائل، خودمختاری اور ترقیاتی کاموں پر رہا ہے، ان کا قبائلی علاقوں سمیت افغانستان میں بھی اثرورسوخ تسلیم شدہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف زرداری آفتاب شیر پاؤ پاکستان پیپلز پارٹی حیات شیرپاؤ گورنر خیبر پختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا فتاب شیر پاؤ پاکستان پیپلز پارٹی حیات شیرپاؤ گورنر خیبر پختونخوا آفتاب احمد خان شیرپاؤ گورنر خیبر پختونخوا گورنر خیبرپختونخوا ذرائع کے مطابق فیصل کریم کنڈی پیپلز پارٹی ہونے کے کنڈی کو کے بعد رہا ہے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ