چمن، سرحدی کشیدگی میں کمی کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی دوبارہ بحال
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
بارڈر کو صرف مہاجرین کی نقل و حرکت کیلیے کھولا گیا ہے، جبکہ تجارت، مال بردار گاڑیوں اور عام پیدل آمدورفت سمیت دیگر تمام سرگرمیاں سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک معطل رہینگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع چمن میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں کمی کے بعد باب دوستی کو افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے عارضی طور پر کھولا گیا ہے۔ مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام آج حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کی واپسی ممکن بنانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ بارڈر کو صرف مہاجرین کی نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ تجارت، مال بردار گاڑیوں اور عام پیدل آمدورفت سمیت دیگر تمام سرگرمیاں سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک معطل رہیں گی۔ سرحدی راستہ حالیہ جھڑپوں اور کشیدگی کے باعث بند کیا گیا تھا، جس سے معمول کی آمدورفت اور مہاجرین کی روانگی متاثر ہوئی۔
حکام کا بتانا ہے کہ بارڈر کی بندش کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری دونوں جانب پھنس گئے تھے، جس کے باعث درجہ حرارت میں کمی اور سہولیات کی کمی کے سبب انسانی مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ مہاجرین کی محفوظ اور منظم واپسی یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ بارڈر کی مکمل بحالی کا فیصلہ سکیورٹی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مہاجرین کی گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔