بھارت اور افغان طالبان کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
بھارت اور افغان طالبان کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 22 October, 2025 سب نیوز
کابل (آئی پی ایس )بھارت اور افغان طالبان کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوگئے،طالبان وزیر خارجہ کے دورے کے فوری بعد بھارت نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنا سفارت خانہ بحال کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وزرات خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل میں موجود بھارت کے تکنیکی مشن کا درجہ بڑھا کر اب باضابطہ طور پر سفارت خانہ کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل میں سفارت خانے کی بحالی کا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ جس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، بحال شدہ بھارتی سفارتخانہ افغانستان کی جامع ترقی، انسانی امداد اور استعداد کار میں اضافے کے منصوبوں میں بھرپور حصہ لے گا اور یہ سب کچھ افغان عوام کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ دنوں افغان وزیرِ خارجہ کے دور بھارت کے دوران کیاگیا تھا۔یاد رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت نے اپنا سفارت خانہ بند کردیا تھا تاہم ایک سال بعد تکنیکی مشن قائم کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحسن مرتضیٰ کے بیان پر آصف زردری اور بلاول بھٹو کو معافی معانگنی چاہیے، عظمی بخاری حسن مرتضیٰ کے بیان پر آصف زردری اور بلاول بھٹو کو معافی معانگنی چاہیے، عظمی بخاری وزارت امور کشمیر کا 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا فیصلہ ایندھن کی قلت کا معاملہ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی ریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والوں، غیر قانونی رہائشیوں کیلئے پنجاب کی زمین تنگ افغانستان کے ساتھ معاہدے میں واضح ہے کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی، وزیرِ دفاع سیاسی اختلافات کی آڑ میں پنجاب حکومت عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طالبان کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :