مودی کو فون پر بتا دیا کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ نہیں ہونی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں ہونی چاہیے، اور سفارتی و تجارتی دباؤ کے ذریعے کئی ممکنہ تنازعات کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
دیوالی کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، میں نے ابھی وزیر اعظم مودی سے بات کی ہے۔ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے، اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا حماس کو ’تیز، شدید اور بے رحم‘ کارروائی کا انتباہ
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اب تک 8 ممکنہ جنگوں کو تجارت اور معاہدوں کے ذریعے روکا ہے، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ممکنہ تصادم بھی شامل تھا۔
ٹرمپ کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپ کے دوران 7 طیارے مار گرائے گئے تھے۔ میں نے دونوں ممالک کو فون کیا اور کہا کہ اگر وہ جنگ پر گئے تو امریکآ ان کے ساتھ تجارت بند کر دے گا۔ 24 گھنٹوں کے اندر دونوں ملکوں نے رابطہ کر کے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے براہِ راست گفتگو کی ہے، جس میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں کمی پر بات ہوئی۔ وزیر اعظم مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روس سے زیادہ تیل نہیں خریدے گا اور وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چین تائیوان پر حملہ نہیں چاہتا، منصفانہ تجارتی معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ
انہوں نے مزید کہا، مودی روس سے زیادہ تیل نہیں خریدنے جا رہے۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو، اور آپ جانتے ہیں کہ اب بھارت روسی تیل کی خریداری میں بڑی حد تک کمی لا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے روس-یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے روسی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو اس وقت بھارت کی کل تیل درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دونوں رہنماؤں کی کسی حالیہ گفتگو کی اطلاع نہیں ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی توانائی پالیسی ہمیشہ بھارتی صارفین کے مفادات کے تحفظ پر مبنی رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انڈیا پاکستان ٹرمپ مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انڈیا پاکستان پاکستان اور کے درمیان جنگ نہیں انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔