اتحادی ممالک غزہ میں فوجی قوت کیساتھ گھس کر حماس کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ٹروتھ سوشل پر کی گئی اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور اسکے ارد گرد اب امریکا کے بہت عظیم اتحادی ممالک ہیں، جنھوں نے دوٹوک اور پُرجوش انداز میں مجھے بتایا کہ امن معاہدے کی خلاف کرنے پر اگر آپ کہیں گے تو غزہ میں گھس کر حماس کو سیدھا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مشرق وسطیٰ کے ہمارے اتحادی ممالک اپنی پوری فوجی قوت کے ساتھ غزہ میں گھس کر اُنھیں سیدھا کر دیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی آمیز بیان ٹروتھ سوشل پر کی گئی اپنی پوسٹ میں کیا، جس میں پہلی بار حماس کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کا ذکر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول مشرقِ وسطیٰ اور اس کے ارد گرد اب امریکا کے بہت عظیم اتحادی ممالک ہیں، جنھوں نے دوٹوک اور پُرجوش انداز میں مجھے بتایا کہ امن معاہدے کی خلاف کرنے پر اگر آپ کہیں گے تو غزہ میں گھس کر حماس کو سیدھا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ تو اگر میں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں سے درخواست کی تو وہ غزہ میں ایک بڑی فوجی قوت کے ساتھ داخل ہو کر حماس کو سبق سکھا دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے جو محبت اور جذبہ آج نظر آرہا ہے، وہ ہزار سال سے نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک نہایت خوبصورت منظر ہے۔ امریکی صدر کے بقول میں نے اسرائیل سمیت ان اتحادی ممالک کو اطمینان دلایا کہ حماس کے خلاف کسی کارروائی کی ابھی ضرورت نہیں، کیونکہ اب بھی امید باقی ہے کہ حماس درست راستہ اختیار کرے گی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر حماس نے اپنا برا رویہ تبدیل نہیں کیا تو اس کا خاتمہ تیز تر، شدید اور بےرحمانہ ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تمام ممالک کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے مدد کے لیے فون کیا۔ امریکی صدر نے خاص طور پر انڈونیشیا کا شکریہ ادا کیا، جس نے بڑی تعداد میں اپنی فوج دینے کا اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر حماس کو گھس کر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔