بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل: بھارت نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔
یاد رہے کہ 2021 میں امریکی قیادت میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار سنبھالنے پر بھارت نے کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا، تاہم ایک سال بعد تجارت، طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کے لیے ایک محدود مشن دوبارہ کھولا گیا تھا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران کیے گئے فیصلے کے مطابق حکومت نے کابل میں بھارت کے تکنیکی مشن کی حیثیت کو فوری طور پر افغانستان میں بھارت کے سفارتخانے کے طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ بھارت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی کہ ’سفارتخانہ افغانستان کی جامع ترقی، انسانی ہمدردی کی امداد اور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں میں بھارت کے کردار کو مزید فروغ دے گا، جو افغان معاشرے کی ترجیحات اور امنگوں کے مطابق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔