پاکستان کی اسرائیلی پارلیمان کے متنازع بل اور فلسطینی خودمختاری کمزور کرنے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے پر ناجائز قبضہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جب کہ قابض اسرائیلی پارلیمان میں پیش کیا گیا متنازعہ بل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدام کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا بھارت اور افغانستان کے مشترکہ اعلامیے پر تحفظات کا اظہار، افغان سفیر کی دفتر خارجہ طلبی
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اور عالمی اداروں کو اس سلسلے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیلی فورسز کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران میں کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں؟ دفتر خارجہ نے بتادیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور ہمیشہ ایک آزاد و خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کا دوٹوک مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ریاستِ فلسطین کے قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل پاکستان دفتر خارجہ شفقت علی خان فلسطینی خودمختاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل پاکستان دفتر خارجہ شفقت علی خان فلسطینی خودمختاری کہا کہ پاکستان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرتا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔