Jasarat News:
2026-06-03@07:38:27 GMT

دوحا مذاکرات کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حالیہ جنگ اور کشیدگی کے ماحول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان میں ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کا عمل یقینی طور پر ایک اہم پیش رفت سمجھی جانی چاہیے۔ کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مذاکرات ہی کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ چین سعودی عرب ترکی اور قطر کی مشترکہ حمایتی حکمت عملی نے دوحا مذاکرات کے عمل کو یقینی بنایا۔ کہا جا رہا ہے کہ ترکی نے ان مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے نکات پر عمل درآمد کی ضمانت دی ہے۔ کیونکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان افغانستان کے درمیان جو بداعتمادی ہے اس میں کسی تیسرے ملک کی ضمانت کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان نے ان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہوگی تو مذاکرات اور معاہدوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں پاکستان جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار افغانستان کے جواب پر منحصر ہوگا۔ پاکستان کا موقف ہے افغانستان کو زیادہ ذمے داری کے ساتھ پاکستان کے تحفظات کو اور بالخصوص ٹی ٹی پی کے حوالے سے اپنی پالیسی کو واضح کرنا ہوگا اور اس میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان کے لیے اس کی داخلی سلامتی اور سیکورٹی زیادہ عزیز ہے اور اس پر سمجھوتا کرنا پاکستان کو حالت جنگ میں رکھنے کے مترادف ہوگا۔

پاکستان کو افغانستان پر اس حوالے سے بھی تشویش ہے کہ اس کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان دشمنی پر مبنی بن رہے ہیں جو پاکستان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ دہلی اور کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ طالبان کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر زیادہ دباؤ ڈالے اور پاکستان کو غیر مستحکم رکھے۔ افغان طالبان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ بھارت سے اس کے تعلقات کی نوعیت پاکستان دشمنی پر مبنی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس سے پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ خطے کی سیاست کے لیے نئے چیلنجز بھی ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اسی ماہ اکتوبر میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ان مذاکرات کی حتمی تفصیلات سامنے آئیں گی اور پھر اندازہ ہو سکے گا کہ یہ معاہدہ کیا ہے اور کس حد تک اس پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔ کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو پھر مذاکرات اور اس کی اہمیت بہت پیچھے چلے جائیں گے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ مسائل کا حل نہیں ہو سکتی اور مسائل کا حل بات چیت کی مدد سے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر اپنی موثر حکمت عملی کے ساتھ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانا ہوگا اور یہ کہ اس سوچ سے گریز کرنا ہوگا کہ پاکستان مسئلے کا حل صرف جنگ کے ذریعے چاہتا ہے۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ پاکستان افغانستان کے تناظر میں جنگ میں الجھے اور اس کے تناظر میں اس کا داخلی استحکام کمزور ہو۔ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے ساتھ ہوشیار رہنا ہوگا اور جنگ سے بچ کر چلنے کی پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ جنگ پاکستان کے لیے آخری آپشن ہونا چاہیے اور اس سے پہلے سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ کو بنیاد بنا کر ہی آ گے بڑھنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری اسی صورت میں ممکن ہوگی جب بڑی طاقتیں ان دونوں ممالکوں کے درمیان بڑی ثالثی کا کردار ادا کریں۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہو سکیں گے اور اس کے لیے معاملات کے حل میں بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ اسی طرح ان مذاکرات کا مقصد محض جنگ بندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں اور امن کا راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان ایک ہی وقت میں افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات خراب رکھ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس سلسلے میں جہاں پاکستان کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہے وہیں خود افغان طالبان پر بڑی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ بھی ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور مسائل کا حل تلاش کرنے میں پاکستان کا ساتھ دیں۔ افغانستان کو یہ بھی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ خود کو پاکستان کے ساتھ جوڑے اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پاکستان دشمنی پر نہ رکھے۔ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت اسے پاکستان کی مخالفت میں بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔ خود افغانستان کا داخلی سیاسی استحکام پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہی اس کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

پاکستان اس وقت داخلی سطح پر جو سنگین سیکورٹی اور دہشت گردی کے مسائل سے دوچار ہے اور اس سے صوبہ خیبر پختون خوا دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں اور ٹی ٹی پی نے پاکستان کو اپنی دہشت گردی کا مرکز بنایا ہوا ہے۔ ایسے میں افغانستان کی حکومت کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس حکمت عملی کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس وقت پاکستان کی ضرورت بنتی ہے کہ وہ افغانستان کو مذاکرات کے ساتھ جوڑے رکھے اور اس عمل کو یقینی بنائے کہ مسائل کا حل مذاکرات کی مدد سے ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے اپنے داخلی مسائل کو حل کرنا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ افغانستان کے ساتھ حکمت عملی میں اتفاق رائے پیدا ہو اور سیاسی تقسیم سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ اس سیاسی تقسیم کے ساتھ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوسکیں گے۔ اس لیے پاکستان کو زیادہ تحمل اور بردباری سے اپنے فیصلے کرنے ہوں گے اور ساتھ ساتھ اپنے داخلی مسائل کا علاج بھی تلاش کرنا ہوگا اور یہ تسلیم بھی کرنا ہوگا کہ سیکورٹی اور دہشت گردی سے جڑے مسائل کا تعلق ہمارے اپنے داخلی مسائل سے بھی ہے۔ محض دوسروں پر الزام لگا کر ہم اپنا دامن نہیں بچاسکیں گے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پاکستان اور افغانستان کے افغانستان کے درمیان افغانستان کے ساتھ افغانستان کو میں پاکستان مسائل کا حل مذاکرات کے پاکستان کو پاکستان کے ان مذاکرات ہونا چاہیے ساتھ اپنے کرنا ہوگا تعلقات کی حکمت عملی ہے اور اس ہوگا اور نہیں ہو ہوگی کہ کے لیے دیا ہے

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی