پولینڈ کے نائب وزیر اعظم2روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں ایک نیا سنگ میل قائم ہونے جا رہا ہے، پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ رادوسلاف سکورسکی پاکستان پہنچ گئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پولینڈ کے نائب وزیر اعظم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہیں، یہ وزیر خارجہ سکورسکی کا پاکستان کا دوسرا سرکاری دورہ ہوگا، ان کا پہلا دورہ پاکستان 2011 میں ہوا تھا۔
نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنے پولش ہم منصب سے ملاقات کریں گے، اسحاق ڈار اور رادوسلاف سکورسکی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
پاکستان اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوگا، مذاکرات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس اسٹیٹمنٹ دیں گے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پُر عزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پولینڈ کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔