جرمنی اورپاکستان کے درمیان سرمایہ و صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (بزنس رپورٹر) جرمن اماراتی مشترکہ کونسل برائے صنعت و تجارت اور جرمن چیمبرز (اے ایچ کے یو اے ای) کے ایک اعلیٰ سطح تجارتی وفد نے پاکستان کے لیے جرمن چیمبرز کے کنٹری ریپریزنٹیٹو فلوریان والٹرکی قیادت میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کا دورہ کیا جس کا مقصد پاکستان اور جرمنی کے درمیان صنعتی تعاون، کاروباری ترقی اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ جرمن تجارتی وفد نے سائٹ ایسوسی ایشن کے ممبرز صنعتکاروں سے بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تجارتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔وفد میں مختلف شعبوں کے نمائندے شامل تھے جن میں ریٹیل و سپلائی چین (ٹیکسٹائل)، انڈسٹریل آٹومیشن، الیکٹریکل انجینئرنگ، ٹیسٹنگ، انسپیکشن و سرٹیفکیشن، کلین انرجی سلوشنز، اسپیشیلٹی کیمیکلز، مینجمنٹ کنسلٹنسی، الیکٹرانکس و کمیونی کیشن ٹیکنالوجی، سیکیورٹی ٹیکنالوجی، اسمارٹ کارڈز اور ڈائیورسفائیڈ ٹریڈنگ و انویسٹمنٹ شامل ہیں۔اجلاس میں سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر احمد عظیم علوی، چیف کوآرڈینٹر سلیم پاریکھ، سینئر نائب صدر خالد ریاض، نائب صدر محمد ریاض ڈیڈھی،سابق چیئرمین طارق یوسف، سابق صدور عبدالرشید، کامران عربی، سابق سینئر نائب صدر عبدالقادر بلوانی، سابق نائب صدر محمد حسین موسانی، ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین اور کئی معروف صنعتوں کے سی ای اوز بھی موجود تھے۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن احمد عظیم علوی نے مہمانوں کا پرتباک خیرمقدم کرتے ہوئے سائٹ انڈسٹریل ایریا اور ایسوسی ایشن کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایاکہ سائٹ ایسوسی ایشن صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لییمربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کرتی ہے۔ سینئر نائب صدر خالد ریاض اور نائب صدر محمد ریاض ڈیڈھی نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ کا باعث بنے گا۔چیف کوآرڈینٹر سلیم پاریکھ نے جرمن تجارتی وفد کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بی ٹو بی ملاقاتیں دونوں ملکوں کے صنعتکاروں کو کاروباری روابط بڑھانے کا موقع فراہم کریں گی۔ بین الاقوامی تعلقات و سفارتی امور کے چیئرمین جنید الرحمان نے کہا کہ یہ ایک اعلیٰ سطح کثیر شعبہ جاتی وفد ہے جو صنعتی اشتراک، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے امکانات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ایسوسی ایشن کے اراکین نے جرمن تاجروں سے بی ٹو بی ملاقاتوں میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کو ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک معلوماتی ویڈیو پریزنٹیشن بھی دکھائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سائٹ ایسوسی ایشن
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں