چینی بحران کی رپورٹ جاری، ذمہ دار شوگر ملز ایسوسی ایشن قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ملک میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور مصنوعی قلت کی تحقیقات مکمل ہو گئیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی، جس میںپاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کو بحران کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ چینی کے شعبے کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے ڈی ریگولیشن کی جائے، یعنی حکومتی مداخلت کم کر کے مارکیٹ کو خود چلنے دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ چینی کے 5 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن اسٹریٹجک ذخائر ہر وقت موجود رکھے جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں قلت سے بچا جا سکے۔
کمیٹی کے کنوینئر مرزا اختیار بیگ کا کہنا تھا کہ چینی کے حالیہ بحران میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کے بعض ارکان براہ راست ملوث ہیں۔ ان کے بقول چینی کی قیمتوں میں رد و بدل اور مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع خوری کی گئی، جبکہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کا کردار بھی غیر مؤثر اور مشکوک رہا۔
رپورٹ کے مطابق، چینی کی درآمد کے باوجود قیمتیں کم نہیں ہوئیں۔ حیران کن طور پر، حکومت نے چینی کی درآمد پرٹیکس 48 فیصد سے کم کر کے صرف 0.
چیئرمین قائمہ کمیٹی جاوید حنیف نے سوال اٹھایا کہ پہلے چینی برآمد کی گئی، پھر قلت کا بہانہ بنا کر دوبارہ درآمد کی اجازت دی گئی—اور اس پورے عمل سے فائدہ کن مخصوص افراد یا گروہوں نے اٹھایا؟
اس معاملے کی مزید تحقیقات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اور ذیلی کمیٹی کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) سے بھی اس بحران پر مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
وزارتِ تجارت نے تجویز دی ہے کہ آئندہ ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے ملک میں چینی کا مناسب بفر اسٹاک ہر وقت دستیاب رکھا جائے تاکہ مارکیٹ میں سپلائی کا تسلسل برقرار رہے۔
یہ رپورٹ ایک بار پھر ملک میں طاقتور لابیوں اور پالیسی کے کمزور نفاذ کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں چند بااثر افراد کے فائدے کے لیے عام عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔