بھارتی فوج سیاست اور سیاسی قیادت عسکریت میں مشغول ہے، جنرل ساحر شمشاد مرزا

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے کہا ہے کہ بھارتی فوج سیاست جبکہ بھارتی سیاسی قیادت عسکریت میں مشغول ہے۔ پاکستان منقطع ہوئے رابطوں کی بحالی پر مذاکرات اور تنازعات بشمول مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد کے زیراہتمام سمپوزیم کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی فضائیہ کے کمانڈر کی جنرل ساحر شمشاد سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کو وسعت دینے کا عزم

تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان برابری کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ بھارت بھی اس کا خواہشمند ہو۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی شمال و جنوب کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے باعزت، اصولی اور بامقصد سفارتکاری کے ذریعے مکالمے کو فروغ دے رہا ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا… pic.

twitter.com/h6B4kbQsMu

— Advocate Afshan Awan (@AdvAfshanAwan) October 20, 2025

’پاک بھارت تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ثالث کا خیرمقدم کریں گے‘

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے لائحہ عمل بنانے کے لیے ایک ثالث کارگر ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے لیے کسی بھی ملک یا عالمی ادارے و تنظیم کو خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت خطے کا اہم ملک ہے لیکن اس کی تنگ نظری، انسانی حقوق کی پامالی، عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر رویے خطے کو امن کو گہوارہ بنانے کے آڑے آرہے ہیں۔

ساحر شمشاد نے کہاکہ دنیا نے ایک بار پھر افغانستان کی جانب سے اپنی توجہ ہٹادی ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ افغانستان دوحا معاہدے کے تحت انسانی خصوصاً خواتین کے حقوق کی پاسداری اور افغانستان کو دہشتگردی کے استعمال نہ ہونے دینے کے سسلسلے میں ناکام رہا ہے۔

’افغان طالبان رجیم کی دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی نائن الیون جیسے واقعے کا سبب بن سکتی ہے‘

انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں دہشتگردوں کے گروہوں کو پناہ ملی ہوئی ہے اور یہ سب وہاں پنپ رہے ہیں جبکہ افغان طالبان رجیم ان کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے دنیا کو خبردار کیا کہ جس طرح افغان طالبان رجیم نے دہشتگردوں کو پناہ دی ہوئی ہے اور ان کی پشت پناہی کر رہی ہے اس کے پیش نظر دنیا میں نائن الیون کی طرح ایک اور بڑے حاثے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور متوازن سفارتکاری کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان دنیا کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان مکالمے، باوقار سفارتکاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر رابطوں کو فروغ دینے میں فعال اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ عالمی حالات میں تصادم کی جگہ تعاون کو ترجیح دینا ناگزیر ہے، کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور بقائے باہمی، احترامِ انسانیت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی ہے۔

جنرل ساحر نے اپنے کلیدی خطاب میں ان تمام ماہرین، سفارتکاروں اور دانشوروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے علاقائی و عالمی سلامتی کے ماحول پر قیمتی آرا پیش کیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات میں ہمیشہ توازن، مکالمے اور بااصول سفارتکاری کو بنیاد بنا کر اپنے بین الاقوامی تعلقات استوار کیے ہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہاکہ پاکستان مسئلہ فلسطین اور جموں و کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان جو تہذیبوں اور خطوں کے سنگم پر واقع ایک ذمہ دار ملک ہے، اعتدال، توازن اور تعمیری رابطوں کے ذریعے عالمی ہم آہنگی کے لیے کوشاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین خطے کی سیکیورٹی صورت حال میں استحکام کا ضامن ہے، جنرل ساحر شمشاد مرزا

یہ تقریب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور نسٹ کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں ممتاز سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، سرکاری افسران، کاروباری شخصیات اور مختلف جامعات کے طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی علاقائی امن وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیئرمین جوائنٹ چیفس ا ف اسٹاف کمیٹی علاقائی امن وی نیوز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے ساحر شمشاد نے کہا انہوں نے کہاکہ کہاکہ پاکستان کہ پاکستان کہ بھارت ہے اور رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار