ایرانی قونصل جنرل کی لاہور چیمبر آمد، تجارتی حجم میں اضافے پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ لاہور چیمبر ایران کو اہم تجارتی شرکت دار سمجھتا ہے، ایران کیساتھ تجارتی حجم جو ہونا چاہیئے وہ نہیں ہے، اس کو مزید وسعت دیں گے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا پاکستان کے ساتھ ہماری مذہبی، ثقافتی اور تجارت سمیت ہر شعبے میں مضبوط تعلقات ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت ہر منصوبے اور شعبے میں وسعت لانے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی قونصل جنرل مہران مواحد فر نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دورے کے موقع پر سینیئر عہدیداران سے تصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر چیمبر فہیم الرحمان سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پرانے تعلقات ہیں، ایران کیساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ لاہور چیمبر ایران کو اہم تجارتی شرکت دار سمجھتا ہے، ایران کیساتھ تجارتی حجم جو ہونا چاہیئے وہ نہیں ہے، اس کو مزید وسعت دیں گے۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہا پاکستان کے ساتھ ہماری مذہبی، ثقافتی اور تجارت سمیت ہر شعبے میں مضبوط تعلقات ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت ہر منصوبے اور شعبے میں وسعت لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ پاکستان کو ترجیح دی ہے اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ادائیگیوں کا بھی کوئی میکانزم بنے، تاکہ دونوں جانب سے کاروباری حضرات بہتر انداز میں تجارت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستانی تاجروں کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کر رہا ہے اور اس میں مزید وسعت بھی لا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی قونصل جنرل لاہور چیمبر نے کہا کہ سمیت ہر
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔