وزیر خزانہ کی جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251023-08-24
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ جرمن سفیراِنا لیپل کی قیادت میں سرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مضبوط بنیادوں پر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ 3 ماہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح افراطِ زر کی شرح 5 سے 7 ات فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کا ریٹنگ آؤٹ لک بہتر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا حالیہ اسٹاف لیول ایگریمنٹ بھی پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس، توانائی، نجکاری اور پبلک فنانس میں گہرے اصلاحاتی اقدامات پر کاربند ہے۔ مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔