ملک بدترین سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-08-18
سکھر (نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی استحصالی جابرانہ نظام کو بدلنے اوراسلام کے عالانہ نظام کے لیے بدل دو نظام کو تحریک چلا رہی ہے۔ 21 نومبر کومینارپاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماع عام تاریخی ثابت ہوگا۔سندھ میںبدامنی و ڈاکوراج نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ نوشہروفیروز سے پیپلزپارٹی کے سٹنگ ایم این اے ذوالفقار کے گھر پر ڈاکے اور زیورات،نقدی سمیت قیمتی اشیا اور ویگو گاڑی لوٹ کر فرار ہونے کے واقعہ سندھ حکومت اور بلند بانگ دعوے کرنے والے وزیرداخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ کچھ دن پہلے شکارپور میں 70سے زاید بدنامہ زمانہ ڈاکوؤں کا سرینڈر کرنے کی تقریب اور بعدازاں وکلا کی ایک تقریب میں وزیرداخلہ نے ڈاکو راج کے خاتمے اور سندھ میں امن امان کی مثالی صورتحال کے دعوے کیے اورآج ان کے اپنے آبائی ضلع سے ایم این ا ے کے گھر پر ڈاکا ڈال کر ڈاکوؤں نے سندھ حکومت اور ضیا لنجار کو یہ پیغام دیا ہے کہ عوام کے بعد اب اشرافیہ بھی محفوظ نہیں ہے۔حکومت سندھ میں قیام امن اورشہریوں کی جامن ومال کی حفاظت میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے ،صرف کرپشن میں ترقی ہورہی ہے، کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کے مناسب نرخ دینے کے بجائے ہاری کارڈکا لولی پاپ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ہرجگہ سسٹم اپنا کام دکھارہا ہے، عوام کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہران مرکز سکھرمیں اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلعی ذمے دارن کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی رہنما علامہ حزب اللہ جکھرو،ضلعی امیر زبیرحفیظ شیخ ودیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں جماعت اسلامی پاکستان کا مینار پاکستان پر منعقد ہونے والا اجتماع عام روایتی اجتماع عام نہیں بلکہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے یہ اجتماع ایک ایسے وقت میں ہونے جارہاہے جب ملک بدترین سیاسی معاشی عدم استحکام کا شکار ہے، دہشت گردی ایک بار پھر پنجے گاڑ رہی ہے، دہشت گردی کے پے در پے ہونے والے لرزہ خیز واقعات نے قوم کو نہایت متفکر کر دیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تمام ذمے داران عوامی رابطہ مہم کے دوران جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرنے اور جماعت اسلامی کی جدوجہد و مقاصد سے اتفاق رکھنے والے افراد کی اجتماع عام میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ نئے لوگوں تک جماعت کا کام مقاصد و جدوجہد کی بابت تفصیلات پہنچ سکیں، ان کا مزیدکہنا تھا کہ ان شاء اللہ اس اجتماع کے نتیجے میں شاندار تبدیلی واقع ہوگی اور سندھ کے عوام کے مسائل کا مداوا ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔