موجودہ وقت ظالمانہ نظام کیخلاف صالح لوگوں کے متحد ہونے کا ہے، روبینہ فرید
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-02-15
کراچی (پ ر) جماعت اسلامی حلقہ خواتین نگراں مرکزی تاریخ جماعت کمیٹی ،اور ضلعی رکنِ شوریٰ روبینہ فرید نے کہا ہے کہ موجودہ وقت ظالمانہ نظام کیخلاف صالح اور مخلص لوگوں کے متحد ہونے کا وقت ہے، قوموں کو متحرک کرنا اور ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے اور اس وقت اللہ کے پیغام کو نافذ کرنے کے لیے اجتماعی قوت کا اظہار ناگزیر ہے کارکنان سے اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اجتماع عام اس بات کا عزم ہے کہ ہم ظلم، ناانصافی اور استحصال پر مبنی فرسودہ نظام کو بدل کر عدل و انصاف کے نظام کو قائم کریں گے اجتماع عام میں وہ تمام افراد شریک ہوں گے جو صالح دل رکھتے ہیں، معاشرے میں امن، انصاف اورخوشحالی کے خواہاں ہیں علاقہ ناظمہ عظمیٰ فاروق نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اجتماع عام کا مقصد ظالمانہ اور فرسودہ نظام کی تبدیلی ہے تاکہ ملک میں حقیقی معنوں میں قرآن و سنت کا نظام نافذ ہوسکے اللہ کی راہ میں جاں فشانی کرنے والے ہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے قدموں کی گرد بھی اللہ کے نزدیک قیمتی ہے، اور ان کے لیے ابدی کامیابی اور جنت کی زندگی مقدر بنائی گئی ہے خواتین اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ظلم کے خاتمے اور خیر کے غلبے کے لیے میدانِ عمل میں آئیں جماعت اسلامی کی منظم جدوجہد ہی وہ امید ہے جو اس ملک کو امن، عدل اور استحکام دے سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن