بجلی کے کھمبے دیوہیکل جانور میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
آسٹریا نے بجلی کے روایتی کھمبوں کو فن، فطرت اور انجینئرنگ کے حسین امتزاج میں ڈھالنے کا انوکھا منصوبہ شروع کیا ہے، جہاں اب اونچے بجلی کے کھمبے دیو قامت پرندوں اور جانوروں کی شکل میں نظر آئیں گے۔
آسٹریا نے انفرااسٹرکچر کے شعبے میں تخلیقی انقلاب برپا کرتے ہوئے ’’دی آسٹرین پاور جائنٹس‘‘ کے نام سے نیا منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت بجلی کے کھمبے دیوہیکل جانوروں کے مجسموں کی شکل میں تیار کیے جارہے ہیں۔ یہ فن اور ٹیکنالوجی کا ایک دلکش امتزاج ہے، جس کا مقصد بجلی کی ترسیل کے نظام کو فطرت سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر دو مجسماتی کھمبے تیار کیے گئے ہیں، ایک پرندہ ’’اسٹارک‘‘ کے روپ میں اور دوسرا بارہ سنگھا ہرن ’’سٹیگ‘‘ کی شکل میں۔ ’’اسٹارک‘‘ برجن لینڈ کے علاقے میں ہر سال آنے والے مہاجر پرندوں کی علامت ہے، جبکہ ’’سٹیگ‘‘ زیریں آسٹریا کے سرسبز پہاڑی جنگلات کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ منصوبہ آسٹریا پاور گرڈ (APG) اور میسل آرکیٹیکٹس نامی ڈیزائن فرم کے اشتراک سے تیار کیا جارہا ہے۔ دونوں مجسماتی کھمبے فی الحال آزمائشی مراحل سے گزر رہے ہیں تاکہ ان کی ساختی مضبوطی اور برقی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
power lines shaped as animal sculptures supply electricity across austria https://t.
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مجسماتی کھمبوں کے نمونے سنگاپور کے ریڈ ڈاٹ میوزیم میں اکتوبر 2026 تک نمائش کےلیے رکھے گئے ہیں۔ اس انوکھے ڈیزائن کو ریڈ ڈاٹ ڈیزائن ایوارڈ 2025 بھی حاصل ہوچکا ہے، جو الیکٹریفیکیشن اور ڈیکاربونائزیشن کیٹیگری میں دیا گیا۔
منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ بجلی کی لائنیں اردگرد کے قدرتی مناظر کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکیں، مقامی سیاحت کو فروغ ملے اور عوام میں توانائی کے نئے منصوبوں کے لیے قبولیت بڑھے۔
آسٹریا پاور گرڈ کے مطابق ’’یہ فطرت سے متاثر ڈیزائن ماحول دوست انفرااسٹرکچر کی علامت بنے گا، خطے کی معیشت اور سیاحت کو مضبوط کرے گا اور بجلی کے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے منصوبوں کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ کرے گا۔‘‘
آئندہ مرحلے میں منصوبہ سازوں کا ارادہ ہے کہ آسٹریا کی تمام نو ریاستوں برجن لینڈ، کیرنتھیا، زیریں اور بالائی آسٹریا، سالزبرگ، اسٹائریا، ٹائرول، فورآرلبرگ اور ویانا کے لیے الگ الگ جانوروں کے ڈیزائن بنائے جائیں جو ہر علاقے کی ثقافت اور قدرتی شناخت کی عکاسی کریں۔
یہ منفرد خیال اس امید کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ مستقبل میں بجلی کے یہ ’’جانور نما کھمبے‘‘ نہ صرف بجلی کی فراہمی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ سیاحتی اور علامتی حیثیت بھی اختیار کرلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔