معروف امریکی سوشل میڈیا اسٹار اور ماڈل کم کارڈیشیئن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ذہنی دباؤ سے متعلق دماغی اینیورزم (Brain Aneurysm) کی تشخیص ہوئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ انکشاف کم کارڈیشیئن نے اپنی ریئلٹی سیریز ’دی کارڈیشیئنز‘ کے نئے سیزن کے ٹیزر میں کیا ہے جو سوشل میڈیا پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ویڈیو کلپ میں کم کارڈیشیئن کو ایم آر آئی اسکین کے دوران دکھایا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے اہلخانہ کو بتایا، ’ڈاکٹرز نے کہا کہ ایک چھوٹا سا اینیورزم ہے۔‘ان کی بہن کورٹنی کارڈیشیئن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’اوہ‘  کم کے مطابق، ڈاکٹرز نے اس کیفیت کو ’صرف ذہنی دباؤ‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کم اس وقت اپنی مصروف زندگی، قانون کی تعلیم اور ذاتی زندگی کے دباؤ کے باعث ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد انہیں دوبارہ ’سورائیسس‘ کی بیماری نے بھی متاثر کیا، جو ان کے مطابق ذہنی دباؤ سے جڑی ہے۔

کم کارڈیشیئن نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح اپنے چار بچوں کو اس بیماری کی وجہ سے پڑنے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب اپنے سابق شوہر کانیے ویسٹ سے علیحدگی پر بےحد افسوس

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کارڈیشیئن نے کم کارڈیشیئن کے مطابق

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری