پاکستان مسلم مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے، بھارت خطے میں تنہائی کا شکارہے، مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان مسلم مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے، بھارت خطے میں تنہائی کا شکارہے، مشاہد حسین سید WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
لاہور:سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (کَیس) لاہور نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا “علاقائی تعاون اور منی لیٹرل ازم: تغیر پذیر علاقائی نظم میں پاکستان کے تزویراتی انتخاب”۔ علمی و فکری حلقوں، ماہرین، طلبا اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔ کَیس ایک خود مختار تحقیقی ادارہ ہے جو قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں محققین اور ماہرین کیلئے علمی تقریبات کا تسلسل سے اہتمام کرتا ہے۔ تقریب کے افتتاحی کلمات سفیر محمد ہارون شوکت، ڈائریکٹر کَیس لاہور نے پیش کیے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تاریخی سطح کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق مغرب کا زوال ناقابلِ واپسی اور چین کا عروج ناقابلِ تردید ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک “مسلم مڈل پاور” کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ بھارت جنوبی ایشیا میں تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ جیسے ممالک اس سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے علاقائی تعاون کے لیے منی لیٹرل ازم کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مئی کی جنگ کے دوران پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ کو پاکستان کے “نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ” کے کردار کا ثبوت قرار دیا۔
سفیر منصور احمد خان (ریٹائرڈ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان تین ہم آہنگ مگر پیچیدہ حقائق سے دوچار ہے۔ ایک، چین اور امریکہ کے ساتھ توازن، دوسرا بھارت کی بالادستی، اور تیسرا اقتصادی مجبوریوں کا دائرہ۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان منی لیٹرل تعاون کی بنیاد پر نئے انتظامات تشکیل دے سکتا ہے، جیسے چین کے ساتھ اور بھارت کے بغیر ایک نیا “سارک نما” بندوبست، یا پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا اشتراک- اسی طرح انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران پر مشتمل ایک تعاوناتی گروہ کی بھی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق پاکستان خلیجی خطے، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے درمیان ایک ربطی مرکز بن سکتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں عدم استحکام اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سید طاہر حجازی نے تفصیل سے بیان کیا کہ پاکستان خطے کے کلیدی ممالک جیسے سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، ترکی، بنگلہ دیش، ایران، آذربائیجان اور افغانستان کے ساتھ معاشی تعاون کے بے پناہ امکانات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی جن میں ہنرمند افرادی قوت کی ترقی، غذائی تحفظ، ڈیجیٹل تبدیلی، معدنیات، توانائی، سیاحت، مقامی دفاعی پیداوار اور فضائی صنعت شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو انتظامی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے، ضوابط میں سادگی لانی چاہیے اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ)، صدر کَیس لاہور، نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ منی لیٹرل ازم ہم خیال ریاستوں کو امن اور استحکام کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی فورمز سیاسی اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ماضی میں ریجنل کوآپریشن فار ڈیویلپمنٹ (آر سی ڈی) کے ذریعے منی لیٹرل ازم کا جلد آغاز کیا تھا جو آج اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کی شکل میں موجود ہے- انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان توجہ منی لیٹرل شراکت داریوں پر مرکوز ہے جن میں چین پاکستان اقتصادی راہداری، پاکستان۔بنگلہ دیش۔چین سہ فریقی میکنزم اور پاکستان۔ترکی۔آذربائیجان سہ فریقی شراکت داری شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں بھارت کے خلاف مسلح افواج کی تاریخی فتح کے بعد اپنی بلند عالمی حیثیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے جس میں پاک فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا- اس کامیابی کی بنیاد پر پاکستان کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا کے ہمسایہ ممالک، خلیجی شراکت داروں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرے تاکہ ایک ایسا تعاوناتی خطہ تشکیل دیا جا سکے جو بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے میں منی لیٹرل ازم کے اصولوں پر استوار ہو۔
اختتامی اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال، منی لیٹرل ازم کے عملی فوائد اور مئی ۲۰۲۵ کے بعد کے ماحول میں پاکستان کے تعاوناتی کردار پر مفصل گفتگو کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر کی روڈریگو پاز پیریرا کو بولیویا کے صدر منتخب ہونے پر مبارک باد ڈاکٹر راشد محمود نت وہ مسیحا جو بینائی سے محروم چہروں پر امید کی روشنی جگا رہے ہیں وفاقی وزارتِ داخلہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ٹی ایل پی جماعت نہیں مائنڈسیٹ، اس کیخلاف موثر جنگ لڑنا ہوگی: عظمیٰ بخاری ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے، فواد چودھری سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی آزاد کشمیر کے 78 یوم تاسیس کے موقع پر مظفرآباد میں 21 توپوں کی سلامیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔