ایشیا کپ ٹرافی تنازع شدت اختیار کر گیا، محسن نقوی کی ویڈیو پر بھارت برہم
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کے حوالے سے جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی کی ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارت میں ردعمل کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بھارت مخالف ریمارکس پر نئی بحث
بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو میں محسن نقوی کے ساتھ موجود ایک شخص کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’پورا انڈیا ٹرافی کے پیچھے بھاگ رہا ہے‘۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ جملہ بھارت مخالف تصور کیا جا رہا ہے، جس نے ٹرافی تنازع کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بھارتی کرکٹ شائقین اور بی سی سی آئی کے حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ٹرافی دبئی میں دینے پر اصرار
رپورٹس کے مطابق محسن نقوی اب بھی ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے دفتر میں رکھے ہوئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ٹرافی ترجیحاً دبئی میں ایک خصوصی تقریب کے دوران بھارتی ٹیم کے کسی رکن کے حوالے کی جائے۔
تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس مطالبے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے مطابق ٹرافی وصولی محض ایک رسمی عمل ہے، اسے غیرضروری طور پر سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
کشیدگی میں اضافہ
اے سی سی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ٹرافی کے معاملے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کی سطح پر موجود کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات میں سرد مہری برقرار ہے، اور یہ تنازع ایشیائی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اور آزمائش بن گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا ایشیا کپ بھارت پاکستان ٹرافی جے شاہ دبئی محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا ایشیا کپ بھارت پاکستان ٹرافی جے شاہ محسن نقوی محسن نقوی ایشیا کپ کے مطابق
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے