جامعہ کراچی میں حادثے میں جاں بحق طالبہ کی ہمشیرہ کو گریڈ 16 میں ملازمت دینے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
جامعہ کراچی میں 11 اکتوبر کو پوائنٹس بس حادثے میں جاں بحق ہونے والی شعبۂ سماجی بہبود کی طالبہ انیقہ سعید کی ہمشیرہ کو جامعہ کراچی میں گریڈ 16 میں ملازمت دینے کی منظوری دے دی گئی۔
یہ منظوری آج (ہفتے کو) جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ متوفیہ طالبہ کے والد کو جامعہ کراچی کی جانب سے رقم کی پیش کش کی گئی تھی تاہم انہوں نے اسے لینے سے منع کر دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کے بجائے مستقل آمدنی کے لیے ان کی دوسری بیٹی کو جامعہ میں ملازمت دے دی جائے جس پر یہ معاملہ سنڈیکیٹ میں رکھا گیا اور سنڈیکیٹ نے شعبۂ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والی ان کی دوسری بیٹی کو شعبۂ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی میں گریڈ 16 میں ملازمت دینے کی منظوری دے دی۔
ادھر شعبۂ جرمیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نائمہ سعید کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پوائنٹ حادثے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نائمہ سعید نے بتایا کہ اس حادثے کی تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی جس میں سفارشات سمیت تمام پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی میں میں ملازمت
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔