Jasarat News:
2026-07-23@23:54:59 GMT

حادثے کا ذمے دار کون؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-03-2
کیا کوئی اْس ماں کی حرماں نصیبی کا اندازہ لگا سکتا ہے جس کے جگر کا ٹکڑا اس کی آنکھوں کے سامنے چشم ِ زدن میں زندگی کا ہاتھ چھڑا کر موت کی آغوش میں چلاگیا ہو؟ کیا اْس باپ کے دکھ کا ادراک ممکن ہے جس کا ہمکتا ہوا کلوتا بیٹا لمحے بھر میں کچھ اس طور جدا ہوا ہوکہ روح تک کانپ اٹھے؟ جگر کو چیر کر رکھ دینے والے ایسے اندوہناک واقعے سے انسان کانپ اٹھتا ہے اور لرز کر رہ جاتا ہے، کوئی حرفِ تسلی اورکوئی حرفِ دعا سوگواران کے زخموں کا پھایا نہیں بن سکتے، مگر قسم ہے اربابِ اقتدار و اختیار کو کہ وہ ٹس سے مس تک ہوں!۔ گزشتہ روز کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں تین سالہ کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گر کر لاپتا ہوگیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور ایدھی کی ٹیم جائے وقوعہ پہنچیں، بچے کی تلاش کا عمل شروع کیا، اس دوران ماں اپنے لخت جگر کو بچانے کی اپیل کرتی رہی اور جائے وقوعہ پر دہائیاں دیتی رہی مگر بچے کو کھلے مین ہول سے نہیں نکالا جاسکا۔ بچے کے والد شاہ فیصل کے رہائشی ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ نیپا شاپنگ مال آئے تھے۔ والد کا کہنا تھا کہ میری موٹر سائیکل گٹر کے مین ہول کے قریب پارک تھی جبکہ گٹر پر ڈھکنا موجود نہیں تھا۔ واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے۔ بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے ملی ہے جسے جائے وقوعہ سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر دور نالے سے تلاش کیا گیا۔ واقعے کے بعد ایک لڑکے نے دعویٰ کیا کہ بچے کی لاش سرکاری اداروں کے عملے نے نہیں بلکہ اس نے نکالی ہے۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس نے بچے کی لاش اٹھا کر دی تھی۔ پولیس والے نے مجھے کہا کہ تم کون ہو تو میں نے کہا بچے کو میں نے ڈھونڈا ہے تو انہوں نے مجھے تھپڑ مار کر گاڑی سے اُتار دیا۔ واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی۔ اس المناک واقعے پر حسب ِ روایت سندھ اور شہری حکومت نے نیپا واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا، سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے کی انکوائری جاری ہے، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ واقعے پرمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا پچھلے ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے ہیں، واٹر کارپوریشن نے 55 فی صد یوسی چیئرمینوں کو ڈھکن دیے ہیں، انکوائری کراؤں گا کہ شہرکے بیچ ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے قریب مین ہول کیسے کھلا تھا، مین ہول کتنے دن سے کھلا تھا، یا کھولا گیا تھا، اس کو چیک کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر کارپوریشن کو کوئی شکایات نہیں ملی تھی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا اس علاقے کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے، اگر میں کہوں کہ ذمے داری جماعت اسلامی کی ہے تو لوگ ناراض ہوں گے، منافقت کو ایکسپوز کرنے سے پچھے نہیں ہٹوں گا۔ اتنا بڑا شہر ہے یو سی چیئرمین کو مسائل پر اپ ڈیٹ کرنا چاہیے۔ کمسن بچے کی مین ہول میں گر کر ہلاکت کے خلاف سٹی کونسل میں جماعت ِ اسلامی کے ارکان نے بھر پور احتجاج کیا اور مرتضیٰ وہاب کو واقعے کا ذمے قراردیتے ہوئے میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ واقعے پر جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ شہر کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بی آر ٹی کے نام پر کراچی والوں کی تذلیل کی جارہی ہے، 15 سال میں 3360 ارب روپے سندھ حکومت نے ہڑپ کرلیے، لیکن عوام تک نہ سڑک پہنچی نہ پانی، کراچی محض ایک شہر نہیں، پورے ملک کی تصویر ہے۔ یہاں رہنے والے مختلف قومیتوں کے لوگ مل کر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر حکمران جماعتیں اس شہر سے مسلسل ناانصافی کرتی آئی ہیں، واٹر بورڈ اور میئر کراچی بچے کی موت کے ذمے دار ہیں کیونکہ شہر میں کھلے مین ہولز کسی بھی وقت جان لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کھلے گٹروں اور مین ہولز میں گرنے سے ہلاکتوں کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں، جہاں ناقص صفائی کا نظام، ٹوٹے یا غائب ڈھکن، اور گنجان آبادی والے علاقوں میں ناکافی روشنی پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بنتی ہے، گٹروں میں زہریلا گندہ پانی بھرا ہوتا ہے اور آکسیجن کی کمی کے باعث چند منٹوں میں دم گھٹنے یا ڈوبنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ستمبر میں کراچی کے عثمان آباد علاقے میں صفائی کے دوران تین سینی ٹیشن ورکرز مین ہول میں گرنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ مئی میں کراچی میں ایک چھے سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر گیا تھا، جس پر شہریوں اور سیاستدانوں نے احتجاج کیا اور پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ اپریل میں لیاقت آباد کے ایک نالے سے ایک کمسن بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی، جسے سچل تھانے کی حدود سے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ گلشن ِ اقبال میں ہونے والے اس اندوہناک واقعے پر عوام کس قدر غم و غصے کا شکار ہیں اس کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ فاروق ستار جب وقوعے پر پہنچے تو مشتعل شہریوں نے انہیں اپنی گاڑی سے اُترنے نہیں دیا جس کے بعد ایم کیو ایم رہنما گاڑی سے اترے بغیر روانہ ہوگئے۔ مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ اتنا بڑا شہر ہے یو سی چیئرمین کو مسائل پر اپ ڈیٹ کرنا چاہیے جب کہ رپورٹ کے مطابق یوسی چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ریاض اظہر نے کھلے مین ہول کی شکایت 29 اکتوبر کو بی آر ٹی آفس میں منعقدہ میٹنگ میں کی تھی۔ دستاویز کے مطابق مذکورہ میٹنگ میں یونیورسٹی روڈ پر مین ہولز پر ڈھکن لگانے، رنگ سلیب کی درخواست کی گئی تھی، کمیٹی میں یوسی چیئرمین ریاض اظہر کی درخواست کو نظرانداز کیا گیا۔ یوسی چیئرمین کی جانب سے اکتوبر میں کمیٹی کو 14 کھلے مین پوائنٹ کی نشان دہی کی گئی تھی رپورٹ کے مطابق شکایت پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا بلکہ یوسی چیئرمین گلشن ٹاؤن ریاض اظہر جواب دیا گیا ٹھیکے دار نے مزید کام کرنے سے منع کردیا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ شہر میں جب بھی اس نوع کے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں تب غفلت میں مدہوش حکمران تھوڑا ہوش میں آتے ہیں، عوام کی جانب سے بھی کچھ ہاہاکار مچتی ہے اور کے بعد زندگی معمول پر آجاتی ہے۔ کھلے گٹر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گندگی کے انبار میئر کراچی کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر میئر کراچی کسی بھی طور اس حادثے کی ذمے داری لینے کو تیات نہیں، وہ انتہائی ڈھٹائی سے اس واقعے کو جماعت ِ اسلامی کے سر تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مرتضیٰ وہاب جن 106 سڑکوں سے متعلق دعویٰ کرتے ہیں وہ کے ایم سی کے تحت ہیں وقوعے والی سڑک انہی 106 سڑکوں میں شامل ہے، یہاں اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب عوام کے مقدس ووٹ پر ڈاکا ڈال کر کراچی کی میئر شپ نااہلوں اور غاصبوں کے حوالے کی جائے گی جسے عوام نے منتخب ہی نہ کیا ہو تو یہ کچھ ہوگا جو کراچی میں ہورہا ہے۔کیا کوئی ادارہ ایسا ہے جو پھول سے معصوم بچوں کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کرے؟ کراچی کے ارباب اختیار اپنی نااہلیوں اور ناکامو ں کا الزام دوسروں پر عاید کر کے اس نوع کے واقعات کی ذمے داری سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ یوسی چیئرمین کھلے مین ہول مین ہول میں میئر کراچی کے مطابق واقعے پر کے بعد کہ شہر کی لاش بچے کی

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف