مودی کی آسیان سربراہی اجلاس میں غیرحاضری، سفارتی شرمندگی یا سیاسی مجبوری؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
نیو دہلی:
بھارت کی مودی کی سربراہی میں موجودہ حکومت کو اس وقت عالمی فورمز پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو عالمی فورمز پر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم ملائیشیا کا دورہ نہیں کریں گے، معرکہ حق میں بدترین شکست کے بعد سے سفارتی ناکامیاں مودی حکومت کے گلے کا ہار بن چکی ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مودی آسیان سربراہی اجلاس میں آن لائن شرکت کریں گے، اس فیصلے کے نتیجے میں مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مودی نے عالمی فورم سے اپنی غیرحاضری کی وجہ دیوالی کی تعطیلات کو قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی غیر حاضری کی وجہ بین الاقوامی دباؤ، تجارتی تنازعات اور امریکا کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور امریکا کے تعلقات کو روسی تیل کی درآمدات اور امریکی ٹیکسوں میں اضافے نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات سے گریز دراصل مودی کے جھوٹ اور پروپیگنڈا کا بے نقاب ہونا ہے، نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کا وزیراعظم اب ورچوئل پردے کے پیچھے چھپنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مودی کی
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔