بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ: سیکیورٹی تشویش یا سیاسی حکمتِ عملی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بھارتی وزیرِ دفاع کا سندھ کو بھارت میں ضم کرنے کا بیان اور اس کے بعد بھارتی وزیرِ خارجہ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات، نہ صرف بھارت کی پاکستان کے بارے میں ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بھارت کس حد تک اپنی داخلی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے پاکستان دشمنی پر انحصار کرتا ہے۔
مئی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں واضح ناکامی کے بعد سے بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ مسلسل نمایاں رہی ہے اور اس معاندانہ رویے میں وہ افغان طالبان جیسی رجعت پسند قوتوں کی پشت پناہی سے بھی دریغ نہیں کر رہی۔
داخلی سیاست اور پاکستان مخالف بیانیہبھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران کے پاکستان مخالف بیانات اس امر کی علامت ہیں کہ ہندو انتہا پسند سیاسی بیانیے کی بقا پاکستان دشمن جذبات کو ہوا دینے سے جڑی ہوئی ہے۔
تقسیمِ ہند کو ایک غلطی قرار دینا، اکھنڈ بھارت کی باتیں کرنا اور سخت زبان استعمال کرنا محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ بھارت کی ایک منظم اور طویل المدتی سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی ہے۔
پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششگزشتہ چند برسوں میں بھارتی بیانیہ زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے جس میں پاکستان کو ایک غیر مستحکم اور مسائل زدہ ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ بھارت خود کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر عالمی برادری کے سامنے رکھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی بھارت کے جائز سیکیورٹی خدشات کا عکس ہے یا محض داخلی سیاست اور خارجی مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ؟
بھارت پر عالمی اداروں کی تنقیدعالمی تنظیموں کی رپورٹس بھارت کی پیش کردہ تصویر سے مختلف حقیقت بیان کرتی ہیں، ہیومن رائٹس واچ نے خاص طور پر جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو تشویشناک قرار دیا ہے جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ اور دیگر تنظیموں نے ماورائے عدالت قتل، پریس کی آزادی پر قدغنوں، مذہبی اقلیتوں پر دباؤ اور مخالف آوازوں کو کچلنے جیسے اقدامات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں امریکا اور کینیڈا کی جانب سے بھی بھارت پر دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق الزامات سامنے آئے، جبکہ پاکستان افغانستان میں بھارتی کردار سے متعلق شواہد عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔
بھارتی اعلیٰ عہدیداران کے حالیہ بیانات اور پاکستانی ردِعملچند روز قبل بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے۔
اس کے جواب میں پاکستانی دفترِ خارجہ نے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان بیانات کو اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے تمام ریاستی ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں اور مئی 2025 کے تنازعے میں پاکستانی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور دفاعی عزم کا عملی مظاہرہ کیا۔
سندھ سے متعلق بیان اور علاقائی کشیدگیبھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے سندھ کے حوالے سے بیان نے خطے میں تشویش کی نئی لہر کو جنم دیا، پاکستان کی سیاسی اور حکومتی قیادت نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرناک ہیں بلکہ بھارتی قیادت کی جارحانہ سوچ کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔
تقسیمِ ہند، نظریاتی کشمکش اور اکھنڈ بھارتتقسیمِ ہند بھارتی سیاسی و نظریاتی سوچ میں آج بھی ایک حساس مسئلہ ہے، پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوا، جو بھارتی سیکولر نیشنلزم کے دعووں کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔
اس لیے پاکستان کے داخلی مسائل کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تقسیم ایک غلط فیصلہ تھا، حالانکہ یہ بیانیہ اصل میں حال اور مستقبل کی سیاست سے جڑا ہے، نہ کہ تاریخ سے۔
پاکستان کی داخلی صورتحال بطور ہتھیارپاکستان میں سیاسی عدم استحکام، سول-ملٹری تعلقات اور حکومتوں کی تبدیلی جیسے معاملات کو بھارتی بیانیے میں بطور دلیل استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو کمزور اور بھارت کو قدرتی علاقائی رہنما کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اس حکمتِ عملی سے بھارت کو سفارتی محاذ پر فائدہ ضرور ملتا ہے، مگر خطے کے مجموعی امن کو نقصان پہنچتا ہے۔
دہشت گردی کا بیانیہ اور سیاسی مفاداتدہشتگردی کا الزام بھارتی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے، جے شنکر اور دیگر رہنما مسلسل اس موقف کو دہراتے ہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جوابدہ ہونا چاہیے، یہ بیانیہ اکثر اس وقت زور پکڑتا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یا بھارت کے اندر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تنقید بڑھتی ہے، جس کے ذریعے عالمی توجہ کا رخ موڑ دیا جاتا ہے۔
قوم پرستی، انتخابی سیاست اور بیرونی دشمنداخلی سیاست کے تناظر میں پاکستان مخالف بیانیہ بھارتی حکمران جماعتوں کے لیے ایک آزمودہ ہتھیار ہے، راج ناتھ سنگھ سمیت دیگر رہنماؤں کے سخت بیانات قوم پرستانہ جذبات کو تقویت دیتے ہیں اور انتخابی موسم میں معاشی اور سماجی ناکامیوں سے عوامی توجہ ہٹانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
عالمی سطح پر فوائد اور علاقائی نقصاناتبین الاقوامی سطح پر خود کو دہشت گردی کا شکار اور پاکستان کو مسئلہ ریاست بنا کر پیش کرنا بھارت کو وقتی اسٹرٹیجک فوائد تو دیتا ہے، مگر اس طرزِ فکر سے خطے میں اعتماد سازی کے امکانات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صورتِ حال اُس وقت زیادہ ابتر ہو جاتی ہے، جب دنیا میں عالمی فورمز پر بھارت کے خلاف دہشتگردوں کی حمایت کے ٹھوس ثبوت پیش کیے جاتے ہیں۔
بیانیے کی سیاست اور جنوبی ایشیا کا مستقبلیہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ بھارت کو بعض جائز سیکیورٹی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں، مگر جب ان خدشات کو مسلسل سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے تو امن کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔
بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ اب محض سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ داخلی سیاست، نظریاتی کشمکش اور عالمی سفارتی مفادات کا مجموعہ بن چکا ہے، اصل سوال یہ نہیں کہ یہ بیانیہ کیوں موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے ذریعے جنوبی ایشیا میں امن ممکن ہو پائے گا یا کشیدگی مزید گہری ہوتی جائے گی؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکھنڈ بھارت بھارت پاکستان جے شنکر دہشتگردی راج ناتھ سنگھ سیکولر مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکھنڈ بھارت بھارت پاکستان دہشتگردی راج ناتھ سنگھ سیکولر پاکستان مخالف بیانیہ داخلی سیاست بھارتی وزیر میں پاکستان پاکستان کو سیاست اور کے طور پر کہ بھارت بھارت کی بھارت کو پر پیش ہیں کہ کے لیے پیش کر
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘