پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی تاریخ رقم کی ، ملکی معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں ، ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے،وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی رہنمائوں سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
جہانیاں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اکتوبر2025ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی تاریخ رقم کی ہے ، ملکی معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے ، بھارت کے خلاف معرکہ حق میں پاکستان نے تاریخی فاتح حاصل کی اور بھارت کو ایسی شکست دی جسے وہ تاقیامت یادکھے گا، محنت اور لگن سے پاکستان دنیامیں وہ مقام حاصل کرے گا جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے جہانیاں میں رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر کے گھر آمد کے موقع پر سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں اکثریت ہے اور وفاق میں مخلوط حکومت ہے ۔(جاری ہے)
وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم شبانہ روز محنت کر رہی ہیں اور حالیہ سیلاب کے دوران انہوں نے بڑی محنت کی ہے ، گذشتہ روز اسلام آباد میں اجلاس کے دوران وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں حالیہ سیلاب کے دوران خصوصی طور پر ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو سراہا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی خدمات کی بھی تائید و تعریف کی گئی ۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پورے پنجاب کی خدمت میں مصروف ہیں ، ٹرانسپورٹ کاجال بچھایا جارہا ہے جس سے عام آدمی کوسہولت ملے گی ۔ اسی طرح صحت ، تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بھی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جو قابل تعریف ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسی طرح ہم سب مل کر وفاق میں ملک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ امانت ، دیانت اور خلوص نیت کیساتھ ساتھ شبانہ روز محنت سے حاصل ہوا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی چند مہینے پہلے پاکستان کو عظیم فتح سے نوازا ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ جنگ میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب کی یہ اس مالک کا کرم ، 24کروڑ عوام کی دعائوں اور افواج پاکستان کی دلیرانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے اور پاک فضائیہ ،بحریہ اور بری افواج کے جری جوانوں اور افسران نے ایک تاریخ رقم کی اور ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فرنٹ سے لیڈ کیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور جرات اور قیادت کے ذریعے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور ان کے شاہینوں نے وہ کامیابی کے جھنڈے گاڑے کہ بھارت آج بھی اس شکست سے باہر نہیں نکل سکا اور قیامت تک نہیں نکل سکے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اسی طرح جب ہم نے اقتدار سنبھالا ، معاشی بحران کے بہت مشکل چیلنجز تھے ،آئی ایم ایف کا پروگرام لینا پڑا اور الحمد اللہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے نکالا اور آج ہماری معیشت کے اشاریے بہت بہتر ہیں ،معاشی استحکام کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری قومی معیشت ترقی کی طرف تیزی سے آگے بڑھے گی ،یہ بہت بڑا چیلنج اور عزم ہے جس کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتی محاذ پر بھی اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ کامیابیاں عطاء کیں جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جو ہمارا دفاعی معاہدہ ہوا ہے اور سعودی عرب نے پاکستان کے عوام ، بھائیوں اور بہنوں پر جو محبت کے پھول نچھاور کئے اس سے پہلے دیکھتی آنکھوں نے اس طرح کا استقبال کبھی نہیں دیکھا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں ،اسی طرح واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی اور غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ، ہم سب نے ملکر امریکی صدر سے کہاکہ یہ جنگ بند کرانا بہت بڑی خدمت ہوگی جس پر امریکی صدر نے وعدہ کیا کہ وہ جنگ بندی کیلئے کوشاں ہیں اور آج الحمد اللہ جنگ بند ہو چکی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ بندی سے ایک منٹ قبل بھی بچوں اور بچیوں کو شہید کیا جارہا تھا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بہت بڑی خدمت ہے جس کا اجر ان تمام لوگوں کو ملے گا جنہوں نے جنگ بندی میں کردار ادا کیا اور پاکستان نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یقیناً یہ کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے جنہوں نے اس عمل کی قیادت کی اور ہماری موجودگی میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر کے لیڈر وہاں موجود تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص کرم سے پاکستان کو عزت عطا فرمائی اور پروگرام سے ہٹ کر اگر دنیا کے کسی لیڈر نے خطاب کیا تو وہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو موقع دیا اور یہ محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم سب ملکر یہ فیصلہ کرلیں کہ ہم نے پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنی ہے تو جس طرح ہم نے جنگ میں فتح حاصل کی ،اسی طرح ہم معاشی میدان میں بھی ملکر کوشش کر کے کامیاب ہونگے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے پی کے کو میں نے مبارکباد دی ہے اور کہا کے آپ کو صوبائی اسمبلی نے منتخب کیا اور ہمارے لیے محترم ہیں اور پاکستان کے بہترین مفاد میں ہم سب ملکر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں ، پاکستان کی عزت ہے تو ہم سب کی عزت ہے اس لیے سب اختلافات بھلا کر پاکستان کی تقدیر بدلنے اور قائد اعظم اور ڈاکٹر علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کرنی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ملکر محنت کریں گے تو پاکستان انشاء اللہ اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کرے گا ۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان ،وزیر مملکت عبدالرحمان کانجو ، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ، معاون خصوصی طلحہ برکی ،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور جہانیاں کے معززین علاقہ بھی موجود تھے ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہاکہ نے پاکستان پاکستان کو اللہ تعالی امریکی صدر پاکستان نے پاکستان کی وزیر اعلی کے دوران ہیں اور ہے اور
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔