پولینڈ کیساتھ سیاسی و معاشی تعلقات مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں، آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ایوان صدر میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کی صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات میں صدرِ مملکت نے پولینڈ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی قرار دیا، صدر مملکت نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ رادوسواف شِکورسکی کی صدر آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی، پولینڈ کے سفیر میچی پِسارسکی اور وزارتِ داخلہ و انتظامیہ کے انڈر سیکرٹری میچی دُشچِک بھی وفد میں شامل تھے۔ صدرِ مملکت نے پولینڈ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی قرار دیا، صدر آصف علی زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے پولش کمپنیوں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، صدرِ مملکت نے خطے میں امن، استحکام اور معاشی رابطوں کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو اُجاگر کیا۔ دونوں جانب نے تعلیم، دفاع اور عوامی تبادلے کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا، صدر آصف علی زرداری نے یورپی یونین جی ایس پی پلس پر پاکستان کی حمایت پر پولینڈ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پاکستان اور پولینڈ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صدر آصف علی زرداری علی زرداری نے پولینڈ کے کے درمیان مملکت نے
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔