ایشیا کپ ٹرافی کی حوالگی پر پاک بھارت تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹرافی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول نہیں کرے گا۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا کے مطابق، بھارت نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو باضابطہ خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایشیا کپ ٹرافی بھارت کو ارسال کی جائے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ ٹرافی بھارتی بورڈ کو دبئی آکر لینا ہوگی، اے سی سی کا دو ٹوک مؤقف

سائیکیا نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ معاملہ آئی سی سی میں اٹھایا جائے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بھارت کو سری لنکا اور افغانستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اے سی سی کی پیشکش اور پاکستان کا جواب

ایشین کرکٹ کونسل نے بھارت کو 10 نومبر کو ہونے والی تقریب میں ٹرافی وصول کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم بھارت کے انکار کے بعد پی سی بی نے بھی قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بھارتی اقدام کا مؤثر اور قانونی جواب دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ کی ٹرافی اس وقت کہاں ہے اور انڈیا کو کیسے مل سکتی ہے؟

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرافی کی حوالگی اے سی سی کے ضابطوں کے مطابق ہوگی، اور کسی ملک کو ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر ضابطے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

محسن نقوی کا جوابی خط

پی سی بی چیئرمین اور اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے بھارتی بورڈ کے خط کے جواب میں ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کی ایشیا کپ جیت کا اعتراف کیا جاتا ہے، تاہم اے سی سی ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جس کے فیصلے کسی سیاسی دباؤ یا باہمی تعلقات کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ فائنل سے قبل پاکستان اور بھارت کے کپتانوں کی ٹرافی شوٹ منسوخ

محسن نقوی کے مطابق، بھارتی خط اے سی سی کی سالانہ جنرل میٹنگ سے قبل موصول ہوا تھا اور اس پر اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ بھارتی بورڈ نے یہ خط تمام اے سی سی اراکین کو بھی ارسال کیا، اس لیے ریکارڈ درست کرنا ضروری سمجھا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایشیا کپ ٹرافی بھارت پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ ٹرافی بھارت پاکستان ایشیا کپ ٹرافی محسن نقوی کے مطابق اے سی سی کیا گیا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا