پاکستان کی افغان پالیسی اور لاحق خدشات!
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-03-7
ضیاء الحق سرحدی
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے متعدد بار افغانستان کی طالبان حکومت کو رپورٹ بھی کیا ہے اور احتجاج بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان کی طالبان حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ دہشت گردوں کی پاکستان میں کارروائیوں میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ آخر کار پاکستان کو مجبور ہو کر دہشت گردوں کے خلاف افغانستان کے اندر کارروائیاں کی ہیں۔ اسی دوران افغانستان نے عارضی جنگ بندی کی درخواست کی جس پر عارضی جنگ بندی میں دوحا میں مذاکرات تک توسیع کر دی گئی تھی جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے بھی افغانستان کو واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود دہشت گرد گروہوں کو لگام دے۔ افغانستان میں جب سے طالبان کی حکومت برسراقتدار آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کی ڈھلمل افغان پالیسی کی وجہ نے بھی دہشت گردوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ پاکستان کی ماضی کی افغان پالیسی کی وجہ سے افغان باشندوں کو جو ڈھیل ملی ہے اس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افغانستان کے شہریوں نے پاکستان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بنوائے ہیں۔ سابقہ فاٹا کی صورت حال تو ایسی تھی کہ وہاں کسی قسم کی کوئی پابندی ہی نہیں تھی۔ اسی لیے پاکستان کی حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی، کہا گیا ہے کہ صرف وہی افغان باشندے پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزا ہوگا۔
میڈیا کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ دنوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے نمائندے مزمل اسلم شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفاقی وصوبائی حکومتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں، وفاقی و صوبائی اداروں کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کی جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملے اور افغانوں کا ان حملوں میں ملوث ہونا تشویشناک ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دینے والے پاکستان کے بہادر عوام ہم سے سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔ وزیر اعظم نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں اور پاکستان میں مقیم افغانوں کے ان حملوں میں ملوث ہونے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان نگران حکومت کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مذاکرات کیے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کو پناہ دینا اور انہیں گیسٹ ہاؤسز میں قیام کی اجازت دینا قانوناً جرم ہے، ایسے افغان باشندوں کی نشاندہی کی جارہی ہے، پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل میں عوام کو شراکت دار بنایا جائے گا اور کسی کو بھی افغانوں کو حکومت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پناہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں پیش کردہ تمام سفارشات پرسختی سے عمل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے صوبوں کو مکمل تعاون کی درخواست کی۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی باتیں برسوں سے جاری ہیں لیکن اس مسئلے کو آج تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان میں قانونی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی تعداد کے بارے میں گاہے گاہے تخمینے آتے رہے ہیں۔ ان تخمینوں کے مطابق ایسے افغان باشندوں کی تعداد میں سے چالیس لاکھ کے قریب ہے۔ ایسے میں اگر ستر، اسی ہزار کو واپس بھیجا گیا ہے تو یہ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے۔ پھر یہ بھی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں یا اگر موجود ہیں تو انہیں ظاہر نہیں کیا جا رہا کہ جن افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا ہے ان میں سے کتنے واپس آئے ہیں۔ اس لیے افغانستان کے باشندوں کو واپس بھیجنے کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے اور اگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے افسران اور ملازمین ان قوانین پر عمل کرنے میں ست روی یا کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور اس حوالے سے سخت سزاوں اور جرمانوں کا نفاذ کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کو بچانے کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی صوبائی حکومت اس انتہائی اہم، نازک اور حساس معاملے پر دو عملی کا مظاہرہ کرتی ہے یا مزاحمت کرتی ہے تو اس حوالے سے بھی قومی اور صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کر کے وفاق کو یہ معاملہ براہ راست اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے صوبوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کا ٹارگٹ وفاقی اداروں کے سپرد کر دیا جائے۔
حکومت پاکستان، طالبان حکومت پر شروع دن سے ہی ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کا الزام لگاتی رہی ہے اور پاکستانی حکام متعدد بار اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ افغان سرزمین پر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے پاکستان پر منظم منصوبہ بندی کے تحت دہشت گرد حملے کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں کئی فوجی افسران اور جوان شہید ہوچکے ہیں مگر طالبان حکومت نے پاکستان کے ان تحفظات پر کوئی توجہ نہ دی اور اس کشیدہ صورتحال میں طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کے دوران افغان سرزمین سے پاکستان پر کیے جانے والے دہشت گرد حملوں سے پاک فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فوجی تصادم میں بدل گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان جس نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو کئی دہائیوں تک اپنی سرزمین پر پناہ دی اور طالبان قیادت کو افغانستان میں دوبارہ اقتدار تک لانے کی راہ ہموار کی، آج وہی طالبان حکومت پاکستان کو آنکھیں دکھاکر مودی کی پراکسی بنی ہوئی ہے۔ بھارت جو ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہے ایک عرصہ سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کا مغربی محاذ کھلا رہے اور پاک فوج مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ جنگ میں مصروف رہے تاکہ بھارت موقع سے فائدہ اٹھاکر پاکستان کے خلاف مشرقی محاذ کھول کر معرکہ حق میں اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لے سکے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی پرانی روش برقرار رکھی اور دشمن ملک بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو انہیں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست یاد رکھنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان پناہ گزینوں افغان باشندوں کی سے پاکستان پر افغانستان کے طالبان حکومت افغانستان کی پاکستان میں اس حوالے سے کے حوالے سے باشندوں کو پاکستان کے پاکستان کی وطن واپسی حکومت نے سے افغان کو واپس کے خلاف ہے اور کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز