پاک بنگلادیشن:توانائی، تجارت ودیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (آن لائن) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے، بیس سال بعد مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس خوش آئند ہے۔ بنگلا دیش کے مختلف اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان اداراتی میکانزم کے اجلاسوں کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور توانائی، قدرتی وسائل، تجارت، ٹیکسٹائل، سیاحت اور سول ایوی ایشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے اور بیس سال بعد مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس خوش آئند ہے۔ انہوں نے بنگلا دیش کی مہمان نوازی پر بھی شکریہ ادا کیا۔ملاقاتوں میں علی پرویز ملک نے بنگلا دیش کے مشیر برائے امور خارجہ محمد توحید حسین، مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، سول ایوی ایشن اور سیاحت شیخ بشیر الدین، اور مشیر برائے توانائی و معدنی وسائل محمد فوزل کبیر خان سے بھی تفصیلی بات چیت کی۔ بنگلا دیشی حکام نے پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو اہم قرار دیا۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون اور توانائی کے شعبے میں مزید تعلقات مضبوط بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں اور پاکستان اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کا خواہاں ہے۔
ڈھاکا: وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک بنگلا دیش کے مشیر برائے خارجہ امورتوحید حسین سے ملاقات کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلا دیش کے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔