روس پر امریکی پابندیوں کے اثرات، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد امکان ہے کہ یکم نومبر سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے۔
ذرائع کے مطابق، پیٹرول میں فی لیٹر 1.48 روپے اور مٹی کے تیل میں 2.34 روپے اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یکم نومبر سے نئی قیمتیں ممکنہ طور پر یوں ہوں گی:
پیٹرول: 264.
ڈیزل: 276.80 روپے فی لیٹر
مٹی کا تیل: 184.05 روپے فی لیٹر
لائٹ ڈیزل: 163.25 روپے فی لیٹر
تاہم، حتمی قیمتوں کا اعلان 31 اکتوبر کی شام کیا جائے گا، جب پندرہ روزہ درآمدی اور زرمبادلہ کے اعداد و شمار کا مکمل جائزہ لے لیا جائے گا۔
قیمتوں میں اضافے کا امکان بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روس کی بڑی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے اثرات کی وجہ سے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روپے فی لیٹر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔