پاکستان کو سیلاب سے بھاری نقصان پہنچا، مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے: عالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
پاکستان کو سیلاب سے بھاری نقصان پہنچا، مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے: عالمی بینک WhatsAppFacebookTwitter 0 28 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) عالمی بینک نے اپنی پاکستان ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025 میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب کے باعث پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.
اپنی رپورٹ میں عالمی بینک نے مشورہ دیا کہ ترسیلات زر میں اضافہ برآمدات اور درآمدات کے درمیان خلیج کو کم کرسکتا ہے، پاکستان بجٹ میں اعلان کردہ نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی معاشی پیداوار سال 2025 میں بڑھ کر 3 فیصد رہی، پاکستانی معیشت کی شرح نمو گزشتہ سال 2اعشاریہ 6 فیصد جبکہ 2026 میں تین فیصد ہی رہے گی۔
عالمی مالیاتی ادارے نے بتایا کہ صنعتوں اور خدمات کے شعبہ میں ترقی آئی ،زرعی ترقی دباؤ کا شکار رہی، مالی نظم وضبط کے باعث مہنگائی کنٹرول میں رہی،2027 میں پاکستان کی معیشت 3.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ پاکستان اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھے، پاکستان ٹیکس دینے والوں کا دائرہ بڑھائے، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور نجکاری کا عمل بھی جاری رکھے۔
پاکستان میں ہر سال 16لاکھ نوجوان روزگار کے حصول کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں، رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے اور اس سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، رپورٹ میں غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کیلئے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے رپورٹ میں مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر زور دیا ہے جبکہ ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا کہا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ کا جھوٹے مقدمات بنانے میں ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا حکم پاکستان اور افغان طالبان کے استنبول میں تین روز سے جاری مذاکرات بے نتیجہ ختم رواں سال کا طاقتور ترین طوفان کیریبین جزائر پر اثر انداز ہونا شروع، اب تک 3 افراد ہلاک “ہیپی برتھ ڈے‘‘ مریم نواز نے زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں استنبول مذاکرات تاحال بے نتیجہ ، افغان وفد کا پاکستان کے جائز مطالبات ماننے سے انکار شہبازشریف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات، توانائی، تجارت اور نئے منصوبوں پر گفتگو ن لیگ آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں ہوگی، تحریک عدم اعتماد میں پی پی کا ساتھ دیں گے، رانا ثنااللہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی بینک فیصد رہنے رپورٹ میں کی شرح
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔