پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ، عوام کے لیے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے سمری تیار کرلی ہے، جو 31 اکتوبر کو وزیرِ خزانہ کو بھیجی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد وزیرِ خزانہ نئی قیمتیں یکم نومبر سے 15 نومبر تک نافذ کرنے کا اعلان کریں گے۔
فی الحال ملک میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 263.
متوقع نئی قیمتیں:
رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 2.35 روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 265.37 روپے فی لیٹر متوقع ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.50 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے، اور یہ 277.92 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ 64.33 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 60.08 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جس میں ہر ایک میں 7 سینٹ کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس پر پابندیوں اور OPEC+ کی ممکنہ پیداوار میں اضافے کی خبریں عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہیں، جس کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیٹرول کی قیمت کی قیمتوں میں روپے فی لیٹر
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ