انٹربینک میں ڈالر سستا، اوپن مارکیٹ میں مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
انٹربینک مارکیٹ میں مضبوط اقتصادی بنیادوں کے باعث روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مضبوط رہی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مستحکم رہی۔
اقتصادی بنیادوں میں بہتری کے لیے کچھ اہم عوامل شامل ہیں: ایشیائی ترقیاتی بینک اور گرین کلائمیٹ فنڈ کی جانب سے پاکستان کے گلیشئیر متاثرہ علاقوں کے منصوبوں کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ، اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے فریم ورک کے تحت توانائی، کان کنی اور زراعت میں تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق۔
اس کے علاوہ، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے دسمبر میں 1.
یہ سطح چھ ماہ میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی کم ترین سطح ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 282 روپے پر مستحکم رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔