انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا، اوپن مارکیٹ میں قدر مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک مارکیٹ میں اچھے فنڈامینٹلز کے باعث ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور گرین کلائمیٹ فنڈنگ کی پاکستان میں گلیشئیر سے متاثرہ علاقوں کے منصوبوں کے لیے 25کروڑ ڈالر کی فنڈنگ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے فریم ورک کے تحت توانائی کان کنی اور زراعت میں تجارت وسرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق جیسے اچھے فنڈامینٹلز کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا تاہم اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے دسمبر میں 1.
اس طرح سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 6ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 282روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی قدر مارکیٹ میں میں ڈالر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔