انٹربینک مارکیٹ: ڈالر معمولی کمی کے بعد 280.96 روپے پر بند
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں ڈالر ایک پیسہ سستا ہو کر 280 روپے 96 پیسے پر بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر استحکام برقرار ہے۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور یہ بدستور 282 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس معمولی اتار چڑھاؤ کا اثر مارکیٹ پر محدود ہے، تاہم کرنسی کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بینک کی جانب سے نگرانی جاری ہے۔
اس کے علاوہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اور ملکی معاشی عوامل روپے کی قیمت میں توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں نسبتا اعتماد کا ماحول پیدا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔