Islam Times:
2026-06-03@03:36:44 GMT

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

اقتصادی ماہرین کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدی اخراجات میں بھی کچھ اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر ٹیکسوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی قیمتوں پر دبائو ڈالا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز کے لیے اضافے کا امکان ہے جس کا اطلاق یکم نومبر سے متوقع ہے۔ تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی( اوگرا) نے قیمتوں میں ردوبدل کی سمری تیار کر لی جو 31 اکتوبر کو وزارتِ خزانہ کو بھجوائی جائے گی۔ وزارتِ خزانہ حتمی منظوری کے بعد یکم نومبر سے نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 35 پیسے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے فی لٹر اضافہ متوقع ہے، اگر یہ اضافہ منظور کر لیا گیا تو عوام کو یکم نومبر سے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں پر خریداری کرنا ہوگی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدی اخراجات میں بھی کچھ اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر ٹیکسوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی قیمتوں پر دبائو ڈالا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی قیمت میں

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ