بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
(ویب ڈیسک)آئی ایم ایف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھانے پر اطمینان کا اظہار کردیا۔
عالمی مالیاتی ادارے نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بے نظیر کفالت پروگرام کی امداد میں مزید اضافے کی بھی سفارش کر دی،آئی ایم ایف کے مطابق بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں بے نظیر کفالت پروگرام کی رقم کم ہے، سماجی تحفظ کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو مضبوط کیا گیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ صارفین کی قوتِ خرید برقرار رکھنے کیلئے مراعات میں مناسب اضافہ کیا جا رہا ہے،بے نظیر انکم کے بجٹ میں امدادی پروگراموں پر اخراجات میں 20 فیصد اضافہ شامل ہے، اس کے نتیجے میں کفالت پروگرام کے تحت نقد کیش امداد بڑھائی جائے گی۔
سستی اورمعیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے:مریم نواز
غیر مشروط نقد امداد کی رقم 13,500 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کی جائے گی، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس سے کفالت پروگرام کی کوریج میں کم از کم 2 لاکھ خاندانوں کا اضافہ متوقع ہے۔
مالی سال 2026 کے اختتام تک مستفید خاندانوں کی تعداد 10.
فنڈ کی کفالت پروگرام کی رقم میں افراطِ زر کے مطابق ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، آئی ایم ایف کی کنڈیشنل کیش ٹرانسفر پروگرام کی کوریج میں توسیع کی بھی سفارش کی ہے، بے نظیر انکم کے کنڈیشنل کیش ٹرانسفر کے بجٹ کا مکمل استعمال نہایت اہم ہے۔
بارش اور برف باری کا امکان،سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نظیر انکم سپورٹ پروگرام ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔