افغان دہشت گرد سطورے کا اعترافی بیان منظر عام پرآگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-08-22
اسلام آباد (آن لائن) افغان خارجی دہشت گرد سطورے کا اعترافی بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں اس نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستگی، دہشت گردی کے منصوبوں اور مختلف حملوں میں کردار ادا کرنے کے اعترافات کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق سطورے کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے خوگیانہ سے ہے۔ سطورے کے بیان کے مطابق ایک شخص عاصم نے اسے تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کابل میں ٹی ٹی پی کمانڈر قاری محمد سے ملاقات کرائی، جس کے بعد اس نے قاری محمد کے ہاتھ پر بیعت کی۔سطورے نے بتایا کہ وہ علاج کے لیے پشاور آیا، جہاں علاج مکمل ہونے کے بعد کمانڈر قاری محمد نے اسے پشاور کے ایک مدرسے میں داخل ہونے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں کمانڈر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا۔ بیان کے مطابق، کابل سے ٹی ٹی پی کمانڈر قاری محمد نے ایک عالمِ دین کو نشانہ بنانیکی ہدایت دی، تاہم سطورے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے قبل گرفتارکر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، سطورے کی گرفتاری سے ٹی ٹی پی کی پاکستان میں سرگرمیوں اور افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق مزید شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔