پشاور، ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
تفتیشی حکام کے مطابق خودکش حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے، ان خودکش حملہ آوروں نے پشاور میں چند دن تک قیام کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق خودکش حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ہے، ان خودکش حملہ آوروں نے پشاور میں چند دن تک قیام کیا تھا۔ اس حوالے سے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے قیام کے دوران شہر کے راستوں سے واقفیت حاصل کی۔تفتیشی حکام کے مطابق خودکش جیکٹس اور رہائش کی فراہمی میں خودکش بمباروں کی سہولت کاری کی گئی۔ تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے سے متعلق اب تک 150 سے زیادہ افراد سے تفتیش کی جاچکی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پشاور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خودکش حملہ آوروں ہیڈکوارٹر پر تفتیشی حکام
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔