data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سعودی عرب نے اپنی پہلی 5 اسٹار لگژری ٹرین سروس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو 800 میل طویل صحرائی راستے پر سفر کرے گی۔

ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران “ڈریم آف دی ڈیزرٹ” کے نام سے اس پراجیکٹ کو پیش کیا گیا، جو 2026 کے آخر تک فعال کر دیا جائے گا۔

یہ منصوبہ سعودی ریلوے اور اٹلی کے معروف Arsenale گروپ کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں لگژری ٹرینوں کی تیاری میں شہرت رکھتا ہے۔ Arsenale کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بارلیٹا کے مطابق “ڈریم آف دی ڈیزرٹ” ایک متحرک شاہکار ہوگا جو اطالوی مہارت اور سعودی وژن کا امتزاج پیش کرے گا۔

یہ جدید ترین ٹرین ریاض سے قریات شہر تک کا 800 میل طویل سفر طے کرے گی، دورانِ سفر مسافروں کو سعودی عرب کے دلکش صحرائی مناظر دیکھنے کا موقع ملے گا۔ ٹرین میں مجموعی طور پر 14 بوگیاں شامل ہوں گی جن میں 34 پرتعیش کمروں کی سہولت دستیاب ہوگی، جبکہ ایک وقت میں 66 مسافر سفر کر سکیں گے۔

مسافروں کے لیے ایک یا دو راتوں کے خصوصی ٹورز بک کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ ہر بوگی کا ڈیزائن سعودی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو خراجِ تحسین پیش کرے گا، جبکہ ٹرین میں دو ریستوران ہوں گے جہاں سعودی اور بین الاقوامی کھانوں کا امتزاج پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک مرکزی لاؤنج بھی موجود ہوگا جہاں مسافر سفر کے دوران آرام اور میل جول کر سکیں گے۔

یہ منصوبہ سعودی عرب کے سیاحت کے فروغ کے ویژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں بین الاقوامی سیاحوں کو متوجہ کرنا ہے۔ سعودی ریلوے کمپنی کے مطابق “ڈریم آف دی ڈیزرٹ” سیاحوں اور مقامی رہائشیوں کو نہ صرف شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل نیچرل ریزرو بلکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات تک پرتعیش انداز میں لے جانے کا ذریعہ بنے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت

مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔

مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان

’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘

رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت