ٹرمپ کا مودی پر طنزیہ وار، خونی قاتل قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سخت طنز کرتے ہوئے انہیں "خونی قاتل" قرار دے دیا۔
رپورٹس کے مطابق، اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی میں اپنے فیصلہ کن کردار کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں امن کے خواہاں ہیں، مگر "کچھ رہنما امن نہیں چاہتے"۔
ٹرمپ نے طنزیہ لہجے میں کہا:"مودی دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں مگر اندر سے قاتل جیسے سخت انسان ہیں۔"
اس دوران انہوں نے مودی کی نقل اتارتے ہوئے کہا: "مودی بولتے ہیں، ’نہیں، ہم لڑیں گے!‘ — میں نے سوچا، کیا یہ وہی شخص ہے جسے میں جانتا ہوں؟"
ٹرمپ کے اس جملے پر کانفرنس ہال میں موجود سفارت کاروں میں سناٹا چھا گیا، جبکہ بھارتی وفد نے شدید ناگواری کا اظہار کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان سے بھارت اور امریکا کے تعلقات میں نئی دراڑ پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک تجارتی معاہدوں اور دفاعی تعاون کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا نے ٹرمپ کے بیان کو "غیر معمولی سفارتی حملہ" قرار دیا ہے، جس سے مودی کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔