ترکیہ طاقتور زلزلے سے لرز اٹھا، شہریوں میں شدید خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ترکیہ کے مغربی حصے میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹس کے مطابق زلزلےکی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز بالیکسیر صوبے کے قصبے سندرگی میں تھا جبکہ گہرائی تقریبا 6 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے جھٹکے استنبول، بورصہ، مانیسا اور ازمیر سمیت کئی شہروں میں محسوس کیے گئے رپورٹس کے مطابق سندرگی میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
زلزلے کے باعث لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔
یاد رہے کہ اگست میں اسی علاقے میں 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔