شرح سود میں کمی نہ کرنا معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، سلیم ولی محمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے اور اس سے معاشی سرگرمیوں میں مزید کمی واقع ہوگی۔سلیم ولی محمد کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کاروبار پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور اگر شرح سود میں کمی نہ کی گئی تو یہ مزید مندی کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری صرف اسی وقت ممکن ہے جب شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ ہم نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے کیونکہ جب تک یہ نہیں ہوگا، معیشت میں بہتری ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ معاشی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ کاروبار کو آسانی دی جائے اور شرح سود میں واضح کمی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔