تھائی وزیراعظم نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کر دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چرن وراکل نے کمبوڈیا کے ساتھ حالیہ ایک ہفتے سے جاری سرحدی جھڑپوں میں شدت اور بڑھتے ہوئے حکومتی دباؤ کے پیش نظر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تھائی وزیراعظم نے شاہی فرمان پڑھتے ہوئے کہا کہ تین ماہ قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی ان کی اقلیتی حکومت کو کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور دیگر پیچیدہ مسائل کا سامنا رہا ہے، تمام بحرانوں کا حقیقی حل سیاسی طاقت کو عوام کے سپرد کرنے میں مضمر ہے، اس لیے پارلیمنٹ تحلیل کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق انوتن چرن وراکل نے حکومت سنبھالے صرف تین ماہ ہی ہوئے تھے، مگر ان کی اقلیتی حکومت کو متعدد سنگین مسائل کا سامنا تھا، جن میں سرحدی کشیدگی، گزشتہ ماہ آنے والے شدید سیلاب اور اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے خطرات شامل تھے۔ ان چیلنجز نے حکومتی دباؤ میں اضافہ کیا اور پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے کی راہ ہموار کی۔
تھائی لینڈ میں پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد ملکی سیاست میں نئے انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور بین الاقوامی برادری اس خطے کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے
یاد رہے کہ انوتن چرن وراکل نے ستمبر 2025 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوری 2026 کے آخر تک پارلیمنٹ تحلیل کریں گے، تاہم حالیہ بدترین سیلاب اور کمبوڈیا کے ساتھ تازہ جھڑپوں نے حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔ ان حالات میں انوتن کی کابینہ شدید تنقید کی زد میں رہی اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاری بھی جاری تھی۔
تھائی سیاست میں یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیراعظم شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں۔ انوتن سے قبل پائیتونترانگ شیناوترے کو اخلاقیات کی خلاف ورزی اور سرحدی معاملات میں تنازعات کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ شیناوترے پر اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی جب انہیں کمبوڈیا کے سابق لیڈر ہون سونگ کو ‘انکل’ کہتے ہوئے سنا گیا، جس نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں اشتعال پیدا کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور قدرتی آفات کی سنگینی کے درمیان وزیراعظم کا یہ فیصلہ ملکی استحکام اور عوامی اعتماد کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ تحلیل کر کمبوڈیا کے ساتھ
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی