سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ، اہل خانہ نے سی بی آئی کلوزر رپورٹ چیلنج کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ نے ان کی موت سے متعلق سی بی آئی کی تحقیقات کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’نامکمل اور گمراہ کن‘ ہے۔ مارچ 2025 میں سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت خودکشی تھی، اور ان کی سابقہ ساتھی ریا چکرورتی یا ان کے اہلِ خانہ کے خلاف کسی قسم کے جرم، اکسانے یا مالی بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آنجہانی اداکار 8 جون سے 14 جون 2020 تک اپنے باندرہ والے فلیٹ میں اکیلے تھے، اور اس دوران ریا یا ان کے بھائی شووِک ان سے نہیں ملے۔
تاہم سوشانت کے اہلِ خانہ نے سی بی آئی کی تحقیقات کے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں نہیں کی گئیں۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ ورن سنگھ کے مطابق، ’اگر سی بی آئی سچ جاننا چاہتی تھی تو اسے تمام شواہد، جیسے چیٹس، تکنیکی ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور طبی ریکارڈز جمع کروانے چاہیے تھے۔‘
سشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بینک اسٹیٹمنٹس، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر اہم شواہد بھی شامل نہیں کیے گئے۔ اس سلسلے میں 20 دسمبر کو پٹنہ کی عدالت میں سماعت ہوگی جہاں اداکار کے اہل خانہ کی جانب سے رپورٹ کے خلاف احتجاجی درخواست دائر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ فلم ایم ایس دھونی میں بھارتی سابق کپتان دھونی کا کردار ادا کرنے والے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی ان کے فلیٹ سے پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی تاہم ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا بیٹا خودکشی نہیں کرسکتا اسے سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سشانت سنگھ راجپوت اہل خانہ کے اہل
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔