پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیسے ناکام ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج صبح تقریباً 8 بجے پشاور کے علاقے صدر، کوہاٹ روڈ پر واقع فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے حملے کی ناکام کوشش کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کا آغاز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکے سے کیا۔
ایک خودکش حملے کے فوراً بعد 2 مزید دہشتگرد ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دونوں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ اس طرح تینوں دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے میں ایف سی کے 3 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 2 زخمی ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے، جو تاحال جاری ہے۔
مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔