پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیسے ناکام ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج صبح تقریباً 8 بجے پشاور کے علاقے صدر، کوہاٹ روڈ پر واقع فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے حملے کی ناکام کوشش کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کا آغاز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکے سے کیا۔
ایک خودکش حملے کے فوراً بعد 2 مزید دہشتگرد ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دونوں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ اس طرح تینوں دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے میں ایف سی کے 3 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 2 زخمی ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے، جو تاحال جاری ہے۔
مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔